خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 328
خطبات مسرور جلد سوم 328 خطبہ جمعہ 3 / جون 2005ء حد نہیں ہوتی ، انتہا نہیں ہوتی۔جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے کہ مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِى كُلَّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللَّهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ﴾ (البقرة:262) یعنی ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ایسے بیج کی طرح ہے جو سات بالیں اگا تا ہو، ہر بالی میں سودانے ہوں اور اللہ جسے چاہے اس سے بھی بڑھا کر دیتا ہے۔اور اللہ وسعت عطا کرنے والا اور دائمی علم رکھنے والا ہے۔یعنی گو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے پیمانے کوئی نہیں وہ تو بے حساب رزق دینے والا ہے لیکن کیونکہ انسان کی سوچ محدود ہے اس لئے وہ بے حساب سے کہیں یہ نہ سمجھے کہ دس ہیں یا تمیں گنایا سو گنا اضافہ ہو جائے گا۔نہیں، بلکہ بڑھانے کی ابتدا سات سو گنا سے ہے۔اور پھر یہی نہیں بلکہ یہ تو معیار تقویٰ اور ہر ایک کے معیار قربانی کے لحاظ سے اس سے بھی زیادہ بڑھا سکتا ہے۔وہ جس کو چاہے اس سے بھی زیادہ بڑھا کر دے دے۔جتنا زیادہ اس پر ایمان میں بڑھتے جاؤ گے اتنا زیادہ اس کے فضلوں کے وارث ٹھہرتے جاؤ گے۔وہ تمہاری نیتوں کو بھی جانتا ہے۔وہ تمہاری قربانیوں کی گنجائش کو بھی جانتا ہے۔اس لئے جب احمدی اس نیت سے قربانی کر رہے ہوتے ہیں تو وہ خدا تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں کے وارث بھی ٹھہرتے ہیں۔اللہ کرے کہ ہر احمدی کی قربانی کا یہ معیار، پیش کرنے کا یہ فہم اور ادراک بڑھتا چلا جائے۔ہر احمدی قربانی کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والا ہو۔ہر شخص کی تو فیقیں مختلف ہوتی ہیں، استعدادیں مختلف ہوتی ہیں۔لیکن اپنے اپنے دائرے میں ہر احمدی کی یہ خواہش ہونی چاہئے کہ وہ مالی قربانی کرنے والا ہو۔اور قربانی کا لفظ تو تقاضا ہی یہ کرتا ہے کہ اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر اپنی ضروریات کو پس پشت ڈال کر اپنی خواہشات کو دبا کر، اپنے آپ کو اور اپنے مال کو خدا کی رضا کی خاطر جماعتی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پیش کیا جائے۔پس جو اس قربانی کے جذبے سے اپنے مال خدا کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہیں وہ یقینا اللہ تعالیٰ سے اجر پانے والے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلیٰ صدقہ اور مالی قربانی کا ذکر ایک حدیث میں یوں