خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 296 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 296

خطبات مسرور جلد سوم 296 خطبہ جمعہ 13 رمئی 2005 ء اللَّهَ يَجْعَلْ لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ﴾ (الطلاق:43) جو شخص خدا تعالیٰ سے ڈرتا ہے، اللہ تعالیٰ ہر ایک مصیبت میں اس کے لئے راستہ مخلصی کا نکال دیتا ہے اور اس کے لئے ایسے روزی کے سامان پیدا کر دیتا ہے کہ اس کے علم و گمان میں نہ ہوں۔یعنی یہ بھی ایک علامت متقی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو نابکار ضرورتوں کا محتاج نہیں کرتا۔مثلاً ایک دکاندار یہ خیال کرتا ہے کہ دروغگوئی کے سوا اُس کا کام نہیں چل سکتا اس لئے دروغگو ئی سے باز نہیں آتا اور جھوٹ بھولنے کے لئے وہ مجبوری ظاہر کرتا ہے۔لیکن یہ امر ہرگز سچ نہیں۔خدا تعالیٰ متقی کا خود محافظ ہو جاتا اور اُسے ایسے موقع سے بچالیتا ہے جو خلاف حق پر مجبور کرنے والے ہوں۔یادرکھو جب اللہ تعالیٰ کو کسی نے چھوڑا تو خدا نے اسے چھوڑ دیا۔جب رحمن نے چھوڑ دیا تو ضرور شیطان اپنا رشتہ جوڑے گا۔(رپورٹ جلسه سالانه 1897ء صفحه 34 ملفوظات جلد 1 صفحه 8 جدید ایڈیشن) پھر آپ فرماتے ہیں کہ : انسان مشکلات اور مصائب میں مبتلا ہوتا ہے اور حاجات مختلفہ رکھتا ہے۔اور ان کے حل اور روا ہونے کے لئے بھی تقوی ہی کو اصول قرار دیا ہے۔معاش کی تنگی اور دوسری تنگیوں سے راہ نجات تقومی ہی ہے۔فرمایا: ﴿ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ﴾ (الطلاق: 3-4) متقی کے لئے ہر مشکل میں ایک مخرج پیدا کر دیتا ہے اور اس کو غیب سے اس سے مخلصی پانے کے اسباب بہم پہنچا دیتا ہے۔اُس کو ایسے طور سے رزق دیتا ہے کہ اس کو پتہ بھی نہ لگے۔اب غور کر کے دیکھ لو کہ انسان اور دنیا میں چاہتا کیا ہے۔انسان کی بڑی سے بڑی خواہش دنیا میں یہی ہے کہ اس کو سکھ اور آرام ملے۔اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک ہی راہ مقرر کی ہے جو تقویٰ کی راہ کہلاتی اور دوسرے لفظوں میں اس کو قرآن کریم کی راہ کہتے ہیں۔اور یا اس کا نام صراط مستقیم رکھتے ہیں۔کوئی یہ نہ کہے کہ کفار کے پاس بھی مال و دولت اور املاک ہوتے ہیں اور وہ اپنی عیش و عشرت میں منہمک اور مست رہتے ہیں۔میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ وہ دنیا کی آنکھ میں بلکہ ذلیل ذلیل دنیا داروں اور ظاہر پرستوں کی آنکھ میں خوش معلوم دیتے ہیں۔مگر در حقیقت وہ ایک جلن