خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 295 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 295

خطبات مسرور جلد سوم 295 خطبہ جمعہ 13 رمئی 2005 ء راستے نکالتا ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے ﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَّهُ مَخْرَجًا (الطلاق: 3) یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے تکلیفوں اور پریشانیوں سے بچنے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال دے گا۔اور پھر اللہ تعالیٰ اپنے در پر آنے والوں اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کے متعلق یہ بھی فرماتا ہے کہ میں ان کے رزق میں بھی برکت ڈالتا ہوں۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ بے تحاشا مال ہونا بھی رزق میں برکت ہے۔ٹھیک ہے اگر کسی نیک آدمی کے پاس مال ہے تو یہ اُس پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس سے وہ اپنے ساتھ اپنے بھائیوں کی ضرورتیں بھی پوری کرتا ہے۔لیکن یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ مال میں برکت اس طرح بھی ڈالتا ہے کہ ایک بندے کو بہت سی لغویات اور گناہوں سے بچا کر رکھتا ہے۔مثلاً جوا،شراب، زنا وغیرہ سے بچایا ہوا ہے۔اور اسی رقم سے جہاں ایک احمدی مسلمان اپنے بیوی بچوں کے خرچ بھی برداشت کرتا ہے اور چندے بھی دیتا ہے وہاں اتنی رقم سے لغویات اور گناہوں میں مبتلا ایک شخص کے گھر میں ہر وقت دنگا فساد اور بے برکتی ہی رہتی ہے اور غلاظت اور پھٹکار ہی ہر وقت ایسے گھروں میں پڑی رہتی ہے۔غرض ایک برکت جو ایک متقی کے پیسے میں ہے وہ غیر متقی کے پیسے میں نہیں۔پھر ضروریات زندگی کے لئے اللہ تعالیٰ بعض دفعہ متقی شخص کے لئے ایسے ذرائع سے رقم کا انتظام کر دیتا ہے جو اس کے وہم و خیال میں بھی نہیں ہوتا۔جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔﴿وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ﴾ (الطلاق:4) یعنی متقی کو اللہ تعالیٰ وہاں سے رزق دے گا جہاں سے رزق آنے کا اس کو خیال بھی نہیں ہوگا۔اور جو کوئی اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ اس کے لئے کافی ہے۔تو جب اس حد تک تقویٰ بڑھ جائے گا کہ انسان اس پر تو کل کرتے ہوئے غیر اللہ کے سامنے نہ جھکے تو پھر وہ خدا تعالیٰ کے دینے کے نظارے بھی دیکھتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس سلسلے میں فرماتے ہیں کہ: ہمیشہ دیکھنا چاہئے کہ ہم نے تقویٰ وطہارت میں کہاں تک ترقی کی ہے۔اس کا معیار قرآن ہے۔اللہ تعالیٰ نے متقی کے نشانوں میں ایک یہ بھی نشان رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو مکروہات دنیا سے آزاد کر کے اس کے کاموں کا خود متکفل ہو جاتا ہے۔جیسا کہ فرمایا وَمَنْ يَتَّقِ