خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 297 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 297

خطبات مسرور جلد سوم 297 خطبہ جمعہ 13 رمئی 2005 ء اور دکھ میں مبتلا ہوتے ہیں۔تم نے ان کی صورت کو دیکھا ہے مگر میں ایسے لوگوں کے قلب پر نگاہ رکھتا ہوں۔وہ ایک سَعِیر اور سلاسل و اغلال میں جکڑے ہوئے ہیں“۔(الحكم جلد 5 نمبر 11 صفحه 3 کالم 3 مورخه 24/ مارچ 1901ء) تو فرمایا کہ اصل چیز تقویٰ ہی ہے۔اللہ تعالیٰ متقی کا کفیل ہوتا ہے۔لیکن کسی کو خیال آ سکتا ہے کہ کافروں کے پاس بھی اتنا پیسہ ہے وہ عیش کرتے ہیں۔فرمایا کہ تمہیں ان کے دلوں کا حال نہیں پتہ۔گووہ بظاہر عیش کر رہے ہوتے ہیں لیکن فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ ان کے دل میں ایک آگ ہوتی ہے جس میں وہ جل رہے ہوتے ہیں۔ایک ایسے لوہے کے طوق میں ان کا گلا پکڑا ہوا ہوتا ہے جس سے وہ نکل نہیں سکتے۔دنیا دار بیچارے کو یہی فکر رہتی ہے کہ کہیں ان کا پیسہ ضائع نہ ہو جائے۔آج کل مختلف قسم کی بیماریاں بھی ایسے لوگوں کو ہیں جو عموماً متقیوں کو نہیں ہوتیں۔متقی انسان کو اگر کوئی فکر ہوتی ہے تو وہ اس غم میں گھلتا ہے کہ کہیں خدا تعالیٰ مجھ سے ناراض نہ ہو جائے۔لیکن دنیا دار کی دولت ذراسی بھی ضائع ہو جائے تو اس کو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔پھر وہ اور مختلف قسم کی عیاشیوں میں پڑا ہوتا ہے جس سے مختلف قسم کی بیماریوں کا حملہ ہوتا ہے۔بعض لوگ اپنی دولت کے حساب میں ساری ساری رات جاگتے ہیں اور اسی وجہ سے بیمار ہو جاتے ہیں۔بہر حال اگر کسی کے پاس دولت ہے اور تقوی نہیں ہے تو یہ دولت بھی ایک وبال ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں : 'یہ ( آیت) ایک وسیع بشارت ہے۔تم تقویٰ اختیار کر و خدا تمہارا کفیل ہوگا۔اس کا جو وعدہ ہے وہ سب پورا کر دے گا“۔(الحكم جلد 5 نمبر 42 صفحه 14 کالم 2 مورخه 17/ نومبر 1901ء) لیکن یہ بات بہر حال یاد رکھنی چاہئے کہ کامل تقویٰ ہو گا تو اللہ تعالیٰ کے وعدے بھی پورے ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اگر تمہاری زندگی اور تمہاری موت اور تمہاری ہر ایک حرکت اور تمہاری نرمی اور گرمی یعنی خوش مزاجی اور غصہ) محض خدا کے لئے ہو جائے گی۔اور ہر ایک تلخی اور مصیبت کے وقت تم