خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 293
خطبات مسرور جلد سوم 293 خطبہ جمعہ 13 رمئی 2005 ء سرتا پا نورانی بنادیتا ہے۔اس سے کوئی ایسی حرکت سرزد ہو ہی نہیں سکتی جس سے اللہ تعالیٰ کے نور کا اظہار نہ ہو رہا ہو۔اس کا ہر عمل ، اس کا ہر فعل اور اس کی ہر حرکت اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق ہو رہا ہو گا۔اور ایسا شخص جب کسی مجلس میں جائے گا، جہاں بھی جائے گا اس کا ایک رعب ہوگا۔خدا تعالی کی تائید اس کے ساتھ ہوگی۔پس آپ فرماتے ہیں کہ یہی تقویٰ ہے جو ہر احمدی میں ہونا چاہئے۔اگر ہر احمدی یہ حاصل کرلے تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق تم میں اور غیر میں ایک واضح فرق ظاہر فرما دے گا۔پس ہم میں سے ہر ایک کی کوشش ہونی چاہئے کہ ان معیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔جماعت احمدیہ کی فتح اور اس کا غلبہ دنیاوی ہتھیاروں کے ذریعہ سے نہیں ہونا بلکہ یہ نیکیاں اور تقویٰ ہے جو ہماری کامیابی کے ضامن ہیں۔ورنہ دنیاوی لحاظ سے تو نہ ہمارے پاس طاقت ہے اور نہ وسائل ہیں۔دنیاوی وسائل کے لحاظ سے تو ہم غیر کا ایک منٹ بھی مقابلہ نہیں کر سکتے۔لیکن اگر ہم میں تقویٰ پیدا ہو جائے گا ، اگر ہم اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا کر لیں گے، اگر ہم اپنے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کر لیں گے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہیں وہ طاقتیں عطا کروں گا جن کا کوئی غیر اور کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی مقابلہ نہیں کر سکتی۔پس ہر احمدی کو چاہئے کہ اپنے اندر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق خاص تبدیلی پیدا کرے۔اپنے تقویٰ کے معیاروں کو اونچا کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں شامل ہو کر ہم نے جو یہ عہد کیا ہے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کریں گے، اس کی عبادت بجالائیں گے، اس کے حکموں پر عمل کریں گے ، دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے، مخلوق کے حقوق ادا کریں گے ، اعلیٰ اخلاق کا نمونہ دکھا ئیں گے، کسی کا حق نہیں ماریں گے، تکبر نہیں کریں گے ، بیوی خاوند اور خاوند بیوی کے حقوق ادا کرے گا اور صرف اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ یہ حقوق ادا کر وتو تبھی ہم متقی کہلا سکتے ہیں۔جب یہ سارے حقوق ادا کریں گے تو ہی متقی کہلا سکیں گے۔ایک حدیث میں ہے کہ اگر خاوند اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ بھی اس لئے ڈالتا ہے کہ خدا کی رضا حاصل کروں تو اللہ تعالیٰ اس کا بھی ثواب دیتا ہے۔پس جو کام بھی آپ اللہ کا خوف دل