خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 292
خطبات مسرور جلد سوم 292 خطبہ جمعہ 13 رمئی 2005 ء زبانوں اور تمہارے بیانوں اور تمہاری ہر ایک حرکت اور سکون میں نور ہوگا۔اور جن را ہوں میں تم چلو گے وہ راہ نورانی ہو جائیں گی۔غرض جتنی تمہاری راہیں تمہارے قومی کی راہیں، تمہارے حواس کی راہیں ہیں وہ سب نور سے بھر جائیں گی اور تم سراپا نور میں ہی چلو گئے“۔(آئینه کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد 5 صفحه 177-178) یہاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ صرف دعوی ہی کافی نہیں کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں اور اس کا تقویٰ اختیار کرتا ہوں۔بلکہ اگر اپنے ہر عمل سے یہ ثابت کرو گے کہ اگر مجھے کوئی خوف ہے تو صرف خدا کا خوف ہے، اگر مجھے کوئی خوف ہے تو صرف یہ کہ میرا خدا مجھ سے ناراض نہ ہو جائے ہمیں کوئی ایسا کام نہ کروں جو اس کی ناراضگی کا باعث بنے۔دنیا کی ہر چیز سے زیادہ مجھے خدا محبوب ہو۔اور پھر یہی نہیں کہ کبھی اس کا اظہار ہو گیا اور کبھی نہ، بلکہ اب یہ تمہاری زندگیوں کا حصہ بن جانا چاہئے۔کوئی دنیاوی لالچ اور کوئی رشتہ تمہیں خدا تعالیٰ سے زیادہ محبوب نہ ہو، تو پھر کہا جا سکتا ہے کہ تم میں تقویٰ پیدا ہو گیا ہے۔تقویٰ کی وضاحت کرتے ہوئے آپ مزید فرماتے ہیں کہ : تقویٰ کے بہت سے اجزاء ہیں۔عجب ، خود پسندی، مال حرام سے پر ہیز اور بداخلاقی سے بچنا بھی تقویٰ ہے۔(ملفوظات جلد اوّل صفحه 50 جدید ایڈیشن - رپورٹ جلسه سالانه 1897ء صفحه 83) یہ چند برائیاں گنوا کر آپ نے یہی فرمایا ہے کہ تمام برائیوں سے اس لئے بچنا اور تمام نیکیوں کو اس لئے اختیار کرنا ہے کہ اللہ کا پیار حاصل ہو۔اور اسی کا نام تقویٰ ہے۔اور جب تم یہ معیار حاصل کر لو گے تو سمجھو کہ تم نے خدا تعالیٰ کا پیار حاصل کر لیا ہے۔اور جب خدا تعالیٰ کا پیار حاصل ہو جائے گا تو یا درکھو کہ وہ انسانوں کی طرح پیار نہیں کرتا کہ کبھی دوستی نبھائی اور کبھی نہ نبھائی اور کبھی پرواہ نہ کی۔بلکہ جو شخص تقویٰ پر قائم ہو جائے تو ایسے شخص کا اللہ تعالیٰ اس قدر فکر کرتا ہے کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔یہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش سے پتہ لگ رہا ہوگا کہ یہ شخص وہ ہے جو تقویٰ پر قائم ہے اور ایک دنیا دار میں اور اُس میں ایک واضح فرق ہے۔تقویٰ پر قائم شخص کو اللہ تعالیٰ