خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 294
خطبات مسرور جلد سوم 294 خطبہ جمعہ 13 رمئی 2005 ء میں رکھتے ہوئے اور اس کے پیار کو حاصل کرنے لئے کریں گے وہ تقویٰ ہے۔اور جیسا کہ میں نے کہا کہ اس سوچ کے ساتھ آپ اپنا ہر فعل کر رہے ہوں گے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت کبھی آپ کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔اور نہ صرف آپ جماعتی لحاظ سے مضبوط ہوں گے بلکہ ذاتی طور پر بھی معاشرے میں آپ کا مقام بلند ہو گا۔آپ کے مال اور اولاد میں خدا تعالیٰ برکت نازل فرمائے گا اور آپ کو عزت کا مقام عطا فرمائے گا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللــ عِنْدَاللَّـ اتْقَاكُمْ (الحجرات : (14) یعنی اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ معزز کہے اسے پھر دنیا میں ذلیل ہونے کے لئے چھوڑ دے۔اللہ تعالیٰ جو سب دوستوں سے زیادہ دوستی کا حق ادا کرنے والا ہے یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ دنیا داروں کے مقابلے میں اپنے بندے کو ذلیل و رسوا کرائے۔یہ ٹھیک ہے کہ انبیاء کو دنیاداروں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ دنیا دار ہر کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح اس کے پیغام کو پھیلنے نہ دیں۔دنیا کی نظر میں اس کو گرانے کی کوشش کرتے ہیں۔مگر کیا خدا نے کبھی ان کو چھوڑا ہے؟ کبھی نہیں۔نبی تو پھر خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت فرماتا ہے اور دنیا میں کامیاب کر کے چھوڑتا ہے یا نہ ماننے والوں کو سزا کے طور پر مختلف شکلوں میں عذاب دیتا ہے۔لیکن یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کے مطابق ایک عام آدمی کو بھی جو تقویٰ پر قائم ہو، نہیں چھوڑتا۔جو اُس سے تعلق جوڑ لیتا ہے وہ اپنے وعدے کے مطابق اس کی عزت قائم کرتا ہے۔مگر شرط یہ ہے کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اس میں استحکام ہونا چاہئے ، اس میں مستقل مزاجی ہونی چاہئے ، اور ذرا سے ابتلا سے دنیا سے ڈرکر جوسب دوستوں سے بڑھ کر دوست اور ولی ہے اس کا در چھوڑ نہیں دینا چاہئے۔اگر مستقل مزاجی سے اس کے در پر جھکے رہیں گے اور اس کا دامن پکڑے رہیں گے تو وہ نہ صرف ہر مشکل سے بچائے گا بلکہ رعب بھی قائم کرے گا۔اللہ تعالیٰ تو ایسا باوفا دوست ہے کہ اپنے بندوں پر نظر رکھتے ہوئے ان کی تکلیفیں دور کرنے کی فکر میں بھی رہتا ہے اور ان کے لئے ان تکلیفوں کو دور کرنے کے