خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 23 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 23

خطبات مسر در جلد سوم 23 خطبہ جمعہ 14 جنوری 2005ء رکھتا ہوں۔پھر آپ نے فرمایا، اے معاذ! میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ تو ہر نماز کے بعد یہ دعا کرنا نہ بھولنا کہ اَللَّهُمَّ أَعِنِّى عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ۔اے اللہ تعالیٰ مجھے توفیق عطا کر کہ میں تیرا ذکر ، تیرا شکر اور اچھے انداز میں تیری عبادت کر سکوں۔آپ نے یہ فرمایا کہ جو مجھے محبت تم سے ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ میں تجھے اللہ تعالیٰ کا شکر گزار اور عبادت گزار بندہ دیکھوں۔(سنن ابی داؤد كتاب الصلوة باب في الاستغفار) پس ہر احمدی کو بھی جس کو اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعویٰ ہے اس کو بھی یہ ذکر ، شکر اور عبادتوں کے طریق اپنانے ہوں گے۔اور عبادتوں کے معیار حاصل کرنے کے لئے نمازوں کی طرف توجہ دینی ہوگی ، نمازیں پڑھنی ہوں گی۔اس لئے ہر احمدی کو چاہئے کہ اپنی نمازوں کی طرف توجہ دے تبھی وہ شکر گزار بندہ بن سکتا ہے۔عبادت کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ مخالفت نفس بھی ایک عبادت ہے۔انسان سویا ہوا ہوتا ہے جی چاہتا ہے کہ اور سو لے مگر وہ مخالفت نفس کر کے مسجد چلا جاتا ہے تو اس مخالفت کا بھی ایک ثواب ہے۔اور ثواب نفس کی مخالفت تک ہی محدود ہوتا ہے، ورنہ جب انسان عارف ہو جاتا ہے تو پھر ثواب نہیں۔عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جب آدمی عارف ہو جاتا ہے تو اس کی عبادت کا ثواب ضائع ہو جاتا ہے۔کیونکہ جب نفس مطمئنہ ہو گیا تو ثواب کیسے رہا۔نفس کی مخالفت کرنے سے ثواب تھا ، وہ اب رہی نہیں“۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 552-553 جدید ایڈیشن) ( البدر ، مورخه 12 دسمبر 1902ء صفحه 5150) تو یہ جبر کر کے بستر سے اٹھنا اور مسجد باجماعت نماز کے لئے جانا، اپنے کام کا حرج کر کے نمازوں کی طرف توجہ کرنا۔یہی چیز ہے جو ثواب کمانے کا ذریعہ بنتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جب انسان کو خدا کے ساتھ اس حد تک تعلق ہو جائے کہ دنیا کی اس کے نزدیک کوئی حیثیت نہ رہے تو پھر ثواب نہیں رہتا پھر تو یہ ایک معمول بن جاتا ہے،ایک غذا ہے۔