خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 24
خطبات مسرور جلد سوم 24 خطبہ جمعہ 14 جنوری 2005ء پھر جوانی کی عمر کی عبادت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : اگر اُس نے یہ زمانہ خدا کی بندگی ، اپنے نفس کی آراستگی اور خدا کی اطاعت میں گزارا ہوگا تو اس کا اسے یہ پھل ملے گا کہ پیرانہ سالی میں جبکہ وہ کسی قسم کی عبادت وغیرہ کے قابل نہ رہے گا اور اور کسل اور کا ہلی اسے لاحق حال ہو جاوے گی تو فرشتے اس کے نامہ اعمال میں وہی نماز روزہ تہجد وغیرہ لکھتے رہیں گے جو کہ وہ جوانی کے ایام میں بجالاتا تھا۔اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے کہ اس کی ذات پاک اپنے بندہ کو معذور جان کر باوجود اس کے کہ وہ عمل بجا نہیں لاتا پھر بھی وہی اعمال اس کے نام درج ہوتے رہتے ہیں۔( ملفوظات جلد 4 صفحه 199حاشیه۔جدید ایڈیشن) (البدر مورخه یکم جنوری 1905ء صفحه 10) پس ہر احمدی کو صحت کی حالت میں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اپنی نمازوں میں با قاعدگی اختیار کرے اور نہ صرف با قاعدگی اختیار کرے بلکہ باجماعت نمازوں کی طرف بھی توجہ دے۔اسے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ بڑھاپے میں جب انسان کمزور ہو جاتا ہے، اس طرح محنت نہیں کر سکتا جس طرح جوانی میں کر سکتا ہے کیونکہ نمازیں بھی ایک طرح کی محنت چاہتی ہیں۔ان کی ادائیگی بھی جو نمازیں ادا کرنے کا حق ہے اس محنت سے مشکل ہو جاتی ہے جس طرح جوانی میں ادا کی جاسکتی ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کیونکہ اپنے بندوں پر بخشش اور رحم کی نظر رکھنے والا ہے اس لئے وہ بڑھاپے اور کمزوری کے وقت کی جو کم عبادتیں ہیں ان کو بھی جوانی میں کی گئی عبادتوں کے ذریعے پورا کر دیتا ہے۔تو یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں کو نوازنے کے طریقے۔پس ہر وہ انسان جو اللہ تعالیٰ کا عبادت گزار بندہ بننا چاہتا ہے، اس کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے، اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو پاک رکھنا چاہتا ہے، شیطان کے حملوں سے بچانا چاہتا ہے تو اس کے لئے ایک ہی ذریعہ ہے کہ اللہ کی عبادت کی طرف توجہ دے۔اور اس کے لئے سب سے ضروری چیز نماز با جماعت کی ادائیگی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: اُتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَبِ وَأَقِمِ الصَّلوةَ إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ۔وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ۔وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا