خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 22
خطبات مسرور جلد سوم 22 خطبہ جمعہ 14 جنوری 2005ء تمہارے لئے لباس کا انتظام کیا۔تمہاری نگہداشت کے لئے تمہاری ماں کے دل میں تمہارے لئے وہ محبت پیدا کی جس کی مثال نہیں۔وہ کسی اجر کے بغیر تمہاری اس وقت خدمت کرتی ہے جب تم کسی قابل نہیں تھے۔تو یہ سب انتظامات اس خدا کی مرضی سے ہی ہو رہے ہیں جو تمہارا رب ہے۔اور جب تم ایسے حالات میں پہنچ گئے تمہارے اعضاء مضبوط ہو گئے تو اب بھی وہی ہے جو تمہاری ضروریات پوری کر رہا ہے تو یہ تمہارا پیدا کرنے والا تمہارا پالنے والا تمہارا مالک اس بات کا حق دار ہے کہ تم اس کی عبادت کرو، شکر گزار بندے بنو۔اس نے جو نعمتیں تم پر اتاری ہیں ان کو یادکر کے اس کے آگے جھکو اور یہی ایک انسان کی بندگی کی معراج ہے۔پس یا درکھو کہ تمام مخلوق اس کی پیدا کردہ ہے۔تمام انسان اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں اس لئے ہر انسان جو نا شکرا کہلانا پسند نہیں کرتا، جو شیطان کا چیلا کہلانا پسند نہیں کرتا ، اس کا کام ہے کہ تقویٰ سے کام لے۔اس کی خشیت، اس کی محبت، اس کے پیار کو دل میں جگہ دے اور اس کی عبادت کرے۔اس کے بتائے ہوئے حکموں پر عمل کرے۔تو تبھی ایک خدا کا بندہ کہلانے والا ، اپنی پیدائش کے مقصد کو حاصل کرنے والا کہلا سکتا ہے۔پس ایک احمدی جس کا یہ دعوی ہے کہ میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کو سچا ثابت ہوتے دیکھا ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی خبروں کو پورا ہوتے دیکھ کر مسیح موعود کو مانا ہے۔اُس احمدی کا دوسروں کی نسبت زیادہ فرض بنتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس انعام کی بھی قدر کرتے ہوئے ، اپنے رب کے آگے دوسروں سے زیادہ جھکے اور اپنی عبادتوں کے معیار اونچے سے اونچا کرتا چلا جائے۔اگر کاموں کی زیادتی یا دوسری مصروفیات نے اللہ تعالیٰ کا عبادت گزار بندہ بننے میں روک ڈال دی تو پھر احمدی کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوگا کہ اس نے اللہ کو، اللہ کے وعدوں کو پورا ہونے سے پہچانا۔سچی پہچان کو تو اس کے اندر ایک انقلاب پیدا کر دینا چاہئے تھا۔اس کو نمازوں میں یہ دعا مانگنی چاہئے تھی جو ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے۔ایک روایت میں آتا ہے، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا اے معاذ! اللہ کی قسم یقیناً میں تجھ سے محبت