خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 286
خطبات مسرور جلد سوم 286 خطبہ جمعہ 6 رمئی 2005ء شراب پی لیکن دوسرے نے کم پی کہ اسے اٹھا کر لے جارہا ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ صوفی کا یہ مطلب تھا کہ تو نے اپنے بھائی کی غیبت کیوں کی“۔آپ فرماتے ہیں کہ : "آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے غیبت کا حال پوچھا تو فرمایا کہ کسی کی سچی بات کا اس کی عدم موجودگی میں اس طرح سے بیان کرنا کہ اگر وہ موجود ہو تو اسے برا لگے غیبت ہے۔اور اگر وہ بات اس میں نہیں ہے اور تو بیان کرتا ہے تو اس کا نام بہتان ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿ وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا (الحجرات: 13) اس میں غیبت کرنے کو ایک بھائی کا گوشت کھانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔اور اس آیت سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ جو آسمانی سلسلہ بنتا ہے ان میں غیبت کرنے والے بھی ضرور ہوتے ہیں۔اور اگر یہ بات نہیں ہے تو یہ آیت بریکار جاتی ہے۔اگر مومنوں کو ایسا ہی مظہر ہونا تھا اور ان سے کوئی بدی سرزد نہ ہوتی تو پھر اس آیت کی کیا ضرورت تھی؟۔بات یہ ہے کہ ابھی جماعت کی ابتدائی حالت ہے۔بعض کمزور ہیں جیسے سخت بیماری سے کوئی اٹھتا ہے۔بعض میں کچھ طاقت آگئی ہے۔پس چاہئے کہ جسے کمزور پاوے اسے خفیہ نصیحت کرے۔اگر نہ مانے تو اس کے لئے دعا کرے۔اور اگر دونوں باتوں سے فائدہ نہ ہو تو قضاء وقد رکا معاملہ سمجھے۔جب خدا تعالیٰ نے ان کو قبول کیا ہوا ہے تو تم کو چاہئے کہ کسی کا عیب دیکھ کر سر دست جوش نہ دکھلا یا جاوے۔ممکن ہے کہ وہ درست ہو جاوے۔قطب اور ابدال سے بھی بعض وقت کوئی عیب سرزد ہو جاتا ہے۔بلکہ لکھا ہے الْقُطْبُ قَدْ يَزنى، قطب سے بھی زنا ہو جاتا ہے۔بہت سے چور اور زانی آخر کا ر قطب اور ابدال بن گئے۔جلدی اور عجلت سے کسی کو ترک کر دینا ہمارا طریق نہیں ہے۔کسی کا بچہ خراب ہو تو اس کی اصلاح کے لئے وہ پوری کوشش کرتا ہے۔ایسے ہی اپنے کسی بھائی کو ترک نہ کرنا چاہئے بلکہ اس کی اصلاح کی پوری کوشش کرنی چاہئے۔قرآن کریم کی یہ تعلیم ہرگز نہیں ہے کہ عیب دیکھ کر اسے پھیلا ؤ اور دوسروں سے تذکرہ کرتے پھرو۔بلکہ وہ فرماتا ہے تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةٍ ﴾ (البلد: 18 ) کہ وہ صبر اور رحم سے نصیحت کرتے ہیں۔مرحمۃ یہی ہے کہ دوسرے کے عیب دیکھ کر اسے نصیحت کی جاوے اور اس کے لئے دعا بھی کی جاوے۔دعا میں بڑی