خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 285 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 285

خطبات مسرور جلد سوم 285 خطبہ جمعہ 6 رمئی 2005ء رہے ہو گے نیک اثر نہیں لے گا۔بلکہ ہوسکتا ہے کہ وہ پہلے سے بڑھ کر ضد میں آکر برائی کرے۔پس سمجھانے کے لئے بھی موقع اور وقت اور عمل اور تقویٰ ضروری ہے۔اگر اس طرح عمل ہوں گے تو خدا تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق اس کے رحم کے بھی یقیناً حقدار ہوں گے۔کیونکہ ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو یہ نیک عمل کر رہے ہوں گے میں ان پر ضرور رحم کروں گا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق دے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ ہر قسم کی برائی سے رکنے اور ہر قسم کی نیکی اختیار کرنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور ان برائیوں اور نیک باتوں کی بعض کی میں نے مثالیں بھی دی ہیں، مختصر طور پر نام بتائے ہیں۔اب ان برائیوں میں سے چند ایک کی وقت کے لحاظ سے کچھ تھوڑی سی وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔مثلاً غیبت ہے۔کسی کا اس کے پیچھے برے الفاظ میں ذکر کرنا قطع نظر اس کے کہ وہ برائی اس میں ہے یا نہیں۔اگر اس کی کسی برائی کا اس کے پیچھے ذکر ہوتا ہے اور باتیں کی جاتی ہیں تو یہ غیبت ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب بیعت لیا کرتے تھے تو اس بات پر خاص طور پر بیعت لیا کرتے تھے کہ غیبت نہیں کروں گا۔تو کتنی اہمیت ہے اس بُرائی کی کیونکہ اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ایک دوسرے کے خلاف نفرتیں پیدا ہوتی ہیں۔اور پھر یہ بعض دفعہ جماعت میں فتنے کا باعث بنتی ہیں۔اور اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس برائی کے متعلق بہت زور دے کر سمجھایا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : ” ہماری جماعت کو چاہئے کہ کسی بھائی کا عیب دیکھ کر اس کے لئے دعا کریں۔لیکن اگر وہ دعا نہیں کرتے اور اس کو بیان کر کے دُور سلسلہ چلاتے ہیں تو گناہ کرتے ہیں۔کون سا ایسا عیب ہے جو کہ دور نہیں ہو سکتا۔اس لئے ہمیشہ دعا کے ذریعے سے دوسرے بھائی کی مدد کرنی چاہئے۔آپ نے فرمایا کہ : ” ایک صوفی کے دو مرید تھے۔ایک نے شراب پی اور نالی میں بیہوش ہو کر گرا۔دوسرے نے صوفی سے شکایت کی۔اس نے کہا تو بڑا بے ادب ہے کہ اس کی شکایت کرتا ہے اور جا کر اٹھا نہیں لاتا۔وہ اُسی وقت گیا اور اسے اٹھا کر لے چلا۔کہتے تھے کہ ایک نے تو بہت