خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 287 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 287

خطبات مسرور جلد سوم 287 خطبہ جمعہ 6 رمئی 2005ء تاثیر ہے۔اور وہ شخص بہت ہی قابل افسوس ہے کہ ایک کے عیب کو بیان تو سو مرتبہ کرتا ہے لیکن دعا ایک مرتبہ بھی نہیں کرتا۔عیب کسی کا اس وقت بیان کرنا چاہئے جب پہلے کم از کم چالیس دن اس کے لئے رو رو کر دعا کی ہو۔( آپ نے یہاں فارسی کا ایک شعر بیان فرمایا ہے اس میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ تو جان کر پردہ پوشی کرتا ہے ( یعنی اللہ تعالیٰ کو تو علم ہے اس کے باوجود پردہ پوشی کرتا ہے) مگر ہمسایہ کو علم نہیں ہوتا اور شور کرتا پھرتا ہے۔خدا تعالیٰ کا نام ستار ہے۔تمہیں چاہئے کہ تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ الله بنو۔ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ عیب کے حامی بنو بلکہ یہ کہ اشاعت اور غیبت نہ کرو کیونکہ کتاب اللہ میں جیسا آ گیا ہے تو یہ گناہ ہے کہ اس کی اشاعت اور غیبت کی جاوے۔شیخ سعدی کے دوشاگرد تھے۔ایک ان میں سے حقائق و معارف بیان کیا کرتا تھا۔دوسرا جلا بھنا کرتا تھا۔آخر پہلے نے سعدی سے بیان کیا کہ جب میں کچھ بیان کرتا ہوں تو دوسرا جلتا ہے اور حسد کرتا ہے۔شیخ نے جواب دیا کہ ایک نے راہ دوزخ کی اختیار کی کہ حسد کیا اور تو نے غیبت کی۔غرضیکہ یہ سلسلہ چل نہیں سکتا جب تک رحم ، دعا، ستاری اور مَرْحَمَۃ آپس میں نہ ہو۔(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 60-61 جدید ایڈیشن - البدر صفحه 4 مورخہ 18 جولائی 1904ء) پس اس سے واضح ہو گیا کہ غیبت کتنی بری چیز ہے اور کتنی بڑی برائی ہے۔پھر ایک برائی ہے جھوٹ ، کوئی شخص اگر ذراسی مشکل میں بھی ہو تو اس سے بچنے کے لئے جھوٹ کا سہارا لے لیتا ہے۔اور حیرت کی بات یہ ہے کہ جھوٹ کو برائی نہیں سمجھا جاتا۔حالانکہ جھوٹ ایسی برائی ہے جو سب برائیوں کی جڑ ہے۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک برائی سے چھٹکارہ پانے کی درخواست کرنے والے کو یہی فرمایا تھا کہ اگر ساری برائیاں نہیں چھوڑ سکتے تو ایک برائی کو چھوڑ دو اور وہ ہے جھوٹ۔اور یہ عہد کرو کہ ہمیشہ سچ بولو گے۔اب بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جھوٹ صرف اتنا ہے کہ عدالت میں غلط بیان دے دیا۔اگر چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے تو جھوٹ بول کر اپنی جان بچانے کی کوشش کی۔اگر کوئی غیر اخلاقی حرکت کی تو جھوٹ بول دیا۔یا کسی کے خلاف جھوٹی گواہی دے دی اور بلاوجہ کسی کو مشکل میں مبتلا کر دیا۔یقیناً یہ سب باتیں جھوٹ ہیں لیکن چھوٹی چھوٹی غلط بیانیاں کرنا بھی جھوٹ ہے۔