خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 273 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 273

خطبات مسرور جلد سوم 273 خطبہ جمعہ 29 اپریل 2005 ء معاشرہ قائم کرنے کے لئے ، اپنے بیوی بچوں کی بھی نگرانی کرنی ہوگی کہ وہ بھی عبادتوں کی طرف توجہ دیتے ہیں کہ نہیں۔اور جب آپ اپنے پاک نمو نے قائم کریں گے تو یقینا آپ کی نسلیں بھی ان پاک نمونوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو آپ پر برستا دیکھ کر اللہ تعالیٰ کا عابد بننے کی کوشش کریں گی۔اور یوں وہ بھی عبادتوں میں ترقی کرنے کی دوڑ میں شامل ہو جائیں گی۔اور نمازوں کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کے ساتھ وہ دوسری قربانیوں اور عبادتوں میں ترقی کرنے کی طرف بھی توجہ دیں گی۔اور یوں جماعت کے اندر نیکیوں کو قائم کرنے اور نہ صرف قائم کرنے بلکہ ترقی کرنے اور مسلسل جاری رکھنے اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بھلائی اور نیکی کے دروازے جو جنت کی طرف لے جاتے ہیں ان میں سے ایک دروازہ صدقہ بھی ہے۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا بھی ہے جو گناہ کی آگ کو بجھا دیتا ہے۔اس طرح ٹھنڈا کرتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔تو جب انسان گناہ کا احساس کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے ہوئے ، آئندہ سے تو بہ کرتے ہوئے اس کے آگے جھکے اور وہ یہ عہد کرے کہ وہ آئندہ اس گناہ سے بچے گا اور ساتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں بھی کچھ دے تو اس کا یہ احساس فکر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو کھینچنے والا ہوگا۔اور اس سے نہ صرف گناہ سے بچے گا بلکہ نیکی کرنے کی طرف بھی توجہ پیدا ہوگی۔اور پھر نہ صرف نیکی کرنے کی طرف توجہ پیدا ہوگی بلکہ اس میں ترقی کرنے کی طرف بھی توجہ پیدا ہوگی۔ایک غریب آدمی کو خیال آ سکتا ہے کہ ہم کس طرح صدقہ کریں۔ہم کس طرح اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کریں۔ان کو یا د رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے اور نیکیوں میں ترقی کرنے کے لئے دین کی اشاعت کے لئے حسب توفیق کچھ نہ کچھ ضرور دینا چاہئے۔کیونکہ اس رزق میں سے جو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اپنی جان پر قربانی کر کے اس کی راہ میں کچھ خرچ کریں گے تو اس سے نیکیوں میں آگے بڑھنے کے مزید راستے کھلیں گے۔دوسرے، ایسے لوگوں کو جن کی توفیق تھوڑی ہے یاد رکھنا چاہئے کہ جیسے کہ میں پہلے حدیث بتا آیا ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تسبیح وتحمید اور ذکر الہی کو بھی صدقہ قرار دیا ہے۔