خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 274
خطبات مسرور جلد سوم 274 خطبہ جمعہ 29 اپریل 2005 ء یہ بھی ایک مال ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں دینا چاہئے۔جب احمدی اس نظر سے بھی ذکر الہی کر رہے ہوں گے کہ ایک تو یہ کہ ہم اللہ کے حضور یہ دعائیں نذر کرتے ہیں اور اللہ سے امید رکھتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری تو فیقوں کو بڑھائے گا تا کہ ہم بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والے بنیں تو اس نیکی میں بڑھنے کی خواہش کی اللہ بہت قدر کرتا ہے اور پھر ایسے ذریعوں سے نوازتا ہے کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین اسلام کی چوٹی جہاد ہے۔اب اس زمانے میں تلواروں اور بندوقوں کا جہاد تو ختم ہو گیا۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق مسیح کی آمد کے ساتھ ہی تلوار کا جہاد ختم ہونا تھا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس وجہ سے فرمایا ہے کہ میرے آنے کے بعد اب تلوار کا جہاد نہ صرف بند ہو گیا ہے بلکہ حرام ہو گیا ہے۔اس کے بعد کیا یہ سمجھا جائے کہ اسلام کی اس چوٹی تک پہنچنے کے راستے ختم ہو گئے؟۔نہیں، بلکہ تلوار کا جہاد تو جہاد کی ایک قسم ہے جس کی اُس وقت کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے اجازت دی تھی۔بلکہ اُس وقت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تربیت اور تبلیغ کو ہی جہاد اکبر قرار دیا۔تھا۔بلکہ قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے قرآنی دلائل سے دشمن کا منہ بند کرنے اور پیغام پہنچانے کو جہاد قرار دیا ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے ﴿ وَ جَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا ﴾ (الفرقان : 53) یعنی اس قرآن کے دلائل کے ساتھ بڑا جہاد کرو۔پس دلائل کے ساتھ اسلام کی خوبیاں بتانا اور اسلام کی تبلیغ کرنا اصل جہاد ہے۔اور ہر احمدی کا یہ فرض بنتا ہے کہ اسلام اور احمدیت کا پیغام پہنچائے۔یقیناً اس کی وجہ سے قربانیاں بھی دینی پڑیں گی۔لیکن یہ قربانیاں ہی ہیں جن کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی چوٹی جہاد کو قرار دیا ہے۔اور اس نیکی میں ہر احمدی کو ایک دوسرے سے بڑھنے کی خاص کوشش کرنی چاہئے۔اپنے عملوں کو بھی درست کریں کہ اسے دیکھ کر لوگ آپ کی طرف متوجہ ہوں اور پھر تبلیغ کے میدان میں کود جائیں۔آپ کی وطن سے محبت بھی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ان لوگوں کو احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے بارے میں بتائیں، اس کی خوبیاں بتا ئیں۔آئندہ انسانیت کی بقا