خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 272
خطبات مسرور جلد سوم 272 خطبہ جمعہ 29 اپریل 2005ء عمل کرنے ہوں گے۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور ایسی عبادت کرو جو اس کا حق ہے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔نمازوں کے اوقات میں جیسا کہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے، پوری توجہ نمازوں کی طرف رکھو۔تمہارے کام یا تمہارے دوسرے عذر تمہیں نمازیں پڑھنے سے نہ روکیں۔کام کی خاطر نماز کو نہ چھوڑو بلکہ نماز کی خاطر کام چھوڑو۔ورنہ یہ بھی ایک قسم کا مخفی شرک ہے۔کیونکہ اگر کام کی خاطر نماز چھوڑو گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے نزدیک دنیاوی کام تمہارے خدا کی عبادت کرنے سے زیادہ اہم ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے اپنے کام کو خدا کے مقابل پر کھڑا کر دیا ہے۔اس زمانے میں جو دنیا داری بہت ہے۔تو دیکھیں یہ شرک خاص طور پر بہت پھیل گیا ہے۔دنیاوی کاموں اور دھندوں میں انسان اس قدر ڈوب گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور نمازوں کی حیثیت ایک ثانوی حیثیت ہو گئی ہے اور اس زمانے میں جو نمازوں کو خاص توجہ اور شوق سے ادا کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق یقیناً اس کا قرب پانے والا ہوگا۔پس ہر احمدی کو یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اگر اُس نے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے، اور اُس کی جنت حاصل کرنی ہے تو اُسے اپنی نمازوں میں با قاعدگی اختیار کرنی ہوگی۔بلکہ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نیکی کے دروازوں میں داخل ہونے کے لئے مزید ترقی کرنی ہے تو رات کو تہجد کے لئے اٹھنا بھی ضروری ہے جس سے نیکیوں کی طرف اور قدم بڑھیں گے، عبادت کے مزید ذوق پیدا ہوں گے، اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے مزید کوشش ہوگی۔اور اس طرح ہمارے اندر ایک روحانی تبدیلی پیدا ہونی شروع ہو جائے گی۔جو روحانی ترقی کی مزید منزلیں طے کروائے گی اور ہر دن اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی طرف ہمارا قدم ایک نئے انداز میں اٹھے گا۔پس ہر احمدی اپنی عبادتوں کے معیار اونچے کرنے کی کوشش کرے۔اور پھر ایک مومن کیونکہ صرف اپنا ہی ذمہ دار نہیں بلکہ اپنے بیوی بچوں اور اس کے زیر اثر جو ماحول ہے اس کا بھی ذمہ دار ہے۔اس لئے ان عبادتوں کے معیار حاصل کرنے اور اللہ تعالیٰ کے شرک سے پاک