خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 255
خطبات مسرور جلد سوم 255 خطبہ جمعہ 22 اپریل 2005 ء اللہ علیہ وسلم کے پاس جائے گا تو آپ ابو جہل کے خوف کی وجہ سے یا اس کے سردار قریش ہونے کی وجہ سے اور اس وجہ سے بھی کہ وہ آپ کا شدید ترین مخالف ہے اس کے پاس جانے سے انکار کر دیں گے۔لیکن جب وہ غریب آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو بغیر کسی تردد کے یہ جرات و شجاعت کا پیکر اس آدمی کے ساتھ چل پڑا اور ابو جہل کے گھر جا کر دروازہ کھٹکھٹایا۔ابو جہل گھر سے باہر آیا تو اُسے کہا کہ تم نے اس شخص کے پیسے دینے ہیں۔ابو جہل نے کہا مدد ہاں دینے ہیں اور ابھی لایا۔وہ گھر کے اندر گیا اور اس کی رقم لا کر ا دا دی۔تو یقیناً اللہ تعالیٰ کی آپ کے ساتھ تھی۔اور اس کے نظارے بھی اللہ تعالیٰ نے اس طرح دکھائے کہ ابو جہل کو ایک خوفناک اونٹ نظر آیا۔پس آپ کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین نے ہی یہ جرات بھی دلائی تھی کہ ایسے خطرناک دشمن کے گھر بغیر کسی حفاظتی سامان کے چلے جائیں۔اور یہ شجاعت بھی صرف اور صرف آپ کا ہی خاصہ تھی۔پھر دیکھیں جب مکہ سے ہجرت کی تو پہلی پناہ کی جگہ ایک قریب کی غار تھی۔دشمن تلاش کرتا ہوا وہاں پہنچ گیا۔آپ اور حضرت ابو بکڑ اندر بیٹھے ہوئے تھے اور دشمن اگر چاہتا تو آپ کو دیکھ سکتا تھا بلکہ اندر بیٹھے ہوؤں کا خیال تھا کہ ضرور دیکھ بھی لے گا غار بھی کوئی ایسی غار نہیں تھی جس کا منہ تنگ ہو اور اندر سے گہری ہو یا چھپ کے ایک کونے میں آدمی چلا جائے۔حضرت ابو بکر پریشان ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پریشانی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ایک ہی بات ذہن میں ہے کہ اگر کوئی ڈر یا خوف کسی چیز کا کسی ذات کا ہونا چاہئے تو وہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔اور جب خدا تعالیٰ کی خاطر کوئی کام ہورہا ہے تو کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔غار میں بیٹھنے کے واقعہ کو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یوں بیان کرتے ہیں کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میں تھا۔میں نے اپنا سر اٹھا کر دیکھا تو تعاقب کرنے والوں کے پاؤں دکھائی دیئے۔اس پر میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی نظر نیچے کرے گا تو ہمیں دیکھ لے گا۔آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا اے ابو بکر ! ہم دو ہیں اور ہمارے ساتھ تیرا خدا ہے۔تو جہاں یہ واقعہ خدا تعالیٰ کی