خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 254
خطبات مسرور جلد سوم 254 خطبہ جمعہ 22 اپریل 2005 ء بيروت) چھوڑ دیا اور وہاں سے چلے گئے۔(مسند مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحه 218 مطبوعه تو جس ارادے سے اگلے دن جمع ہوئے تھے۔اس کو پورا بھی کرنا چاہا۔ان کو پتہ تھا کہ جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بتوں کے بارے میں سوال کریں گے تو آپ یقین بیزاری کا اظہار کریں گے اور اس صورت میں ہم انہیں ماریں پیٹیں گے۔چنانچہ اسی ارادے سے آپ کو پکڑ بھی لیا لیکن حضرت ابو بکر کی حمایت کی وجہ سے چھوڑ دیا۔شاید کچھ اور لوگ بھی ہوں جنہوں نے شرافت دکھائی ہو تو بہر حال ایسے حالات میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی جرأت کا مظاہرہ کیا کرتے تھے۔پھر مکہ میں بھی آپ کی جرات کا وہ واقعہ دیکھیں جب سب سردار جمع ہو کر آپ کے چچا حضرت ابو طالب کے پاس آئے کہ اپنے بھتیجے کوروکو کہ اپنی تعلیم نہ پھیلائے ورنہ پھر ہم تمہارا بھی لحاظ نہیں کریں گے۔اس پر چچا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھانے کے لئے بلایا تو آپ نے سمجھ لیا کہ اب میرے چچا بھی میری مدد نہیں کر سکتے۔لیکن اس خیال نے آپ کی جرات میں کمی نہیں کی بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس سے یقین میں اور جرات میں اور اضافہ ہوا۔اور فرمایا کہ چا! اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی رکھ دیں تو پھر بھی میں اس کام کو نہیں چھوڑوں گا۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو پورا کر دے یا میں خود ہلاک ہو جاؤں۔۔پھر وہ واقعہ بھی اکثر سنا ہوا ہے۔میں بھی پہلے بیان کر چکا ہوں لیکن جب اس واقعہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جرات اور بہادری کی نظر سے دیکھیں تو ایک اور شان اس کی نظر آتی ہے۔جب اونٹوں کا ایک تاجر ابو جہل کو اونٹ فروخت کرتا ہے اور اونٹوں پر قبضہ کر لینے کے بعد ابو جہل نے اس کی رقم ادا نہیں کی اور کئی بہانے بنا رہا ہے۔غریب آدمی بیچارا چکر لگا لگا کر تھک گیا ہے۔سرداران قریش کے پاس فریاد لے کر گیا کہ مجھ پر رحم کرو اور ابوالحکم سے میری رقم دلوا دو۔وہ سردار جو خود بھی اس ظالمانہ معاشرے کا حصہ تھے جنہوں نے خود بھی یقیناً کئی لوگوں کی رقمیں ماری ہوں گی اُس غریب الوطن کی مدد کرنے کی بجائے اس سے ٹھٹھا کرتے ہوئے اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ دکھا رہے ہیں۔اور کسی نیک نیتی سے نہیں دکھار ہے۔بلکہ اس نیت سے کہ جب یہ آپ صلی