خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 256
خطبات مسرور جلد سوم 256 خطبہ جمعہ 22 /اپریل 2005ء ذات پر یقین کا اظہار کرتا ہے۔وہاں آپ کی جرات و شجاعت کا بھی اظہار ہو رہا ہے۔آپ خاموشی سے اشارہ بھی کر سکتے تھے کہ خاموش رہو۔باہر لوگ کھڑے ہیں بولو نہیں۔لیکن خدا تعالیٰ کی ذات پر یقین کی وجہ سے آپ میں جو جرآت تھی اس کی وجہ سے دشمن کے سر پر کھڑا ہونے کے باوجود اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ابوبکر فکر نہ کرو، خدا ہمارے ساتھ ہے۔(بخاری - كتاب مناقب الانصار - باب هجرة النبي ﷺ واصحابه الى المدينة) اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : دشمن غار پر موجود ہیں اور مختلف قسم کی رائے زنیاں ہورہی ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ اس غار کی تلاشی کرو کیونکہ نشان پایہاں تک ہی آکر ختم ہو جاتا ہے۔لیکن اُن میں سے بعض کہتے ہیں کہ یہاں انسان کا گزر اور دخل کیسے ہو گا مکڑی نے جالا تنا ہوا ہے۔کبوتر نے انڈے دیئے ہوئے ہیں۔اس قسم کی باتوں کی آوازیں اندر پہنچ رہی ہیں۔اور آپ بڑی صفائی سے اُن کو سن رہے ہیں۔ایسی حالت میں دشمن آئے ہیں کہ وہ خاتمہ کرنا چاہتے ہیں اور دیوانے کی طرح بڑھتے آئے ہیں۔لیکن آپ کی کمال شجاعت کو دیکھو کہ دشمن سر پر ہے اور آپ آپنے رفیق صادق صدیق کو فرماتے ہیں لا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا (التوبة:40)۔یہ الفاظ بڑی صفائی کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں کہ آپ نے زبان ہی سے فرمایا کیونکہ یہ آواز کو چاہتے ہیں۔(یعنی یہ الفاظ بولے بغیر تو ادانہیں ہو سکتے ) اشارہ سے کام نہیں چلتا۔باہر دشمن مشورہ کر رہے ہیں اور اندر غار میں خادم ومخدوم بھی باتوں میں لگے ہوئے ہیں۔اس امر کی پروانہیں کی گئی کہ دشمن آواز سن لیں گے۔یہ اللہ تعالیٰ پر کمال ایمان اور معرفت کا ثبوت ہے۔خدا تعالیٰ کے وعدوں پر پورا بھروسہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت کے لئے تو یہ نمونہ کافی ہے۔(ملفوظات جلد اول صفحه 250-51 جدید ایڈیشن - الحكم مورخه 17 مارچ تا 24 مارچ 1905ء) | پھر دشمن کے چلے جانے کے بعد اور یہ اطمینان ہو جانے کے بعد کہ اب غار سے نکل کر اگلا سفر شروع کیا جا سکتا ہے۔آپ حضرت ابوبکر کے ساتھ غار سے نکلے اور جو بھی انتظام کیا تھا اس کے مطابق وہاں سواریاں پہنچ گئی تھیں۔ان پر سوار ہوئے اور سفر شروع ہو گیا۔لیکن کفار مکہ