خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 213
خطبات مسرور جلد سوم 213 خطبہ جمعہ 8 اپریل 2005 ء وَنَذِيرًا﴾ (الاحزاب : 46 کہ اے رسول ! یقیناً ہم نے تجھے شاہد اور مبشر اور ڈرانے والا بنا کر اور امیوں کے لئے محافظ بنا کر بھیجا ہے۔تو میرا بندہ اور رسول ہے۔سَمَّيْتُكَ الْمُتَوَكِّل میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے۔یہ تورات کی گواہی ہے۔آپ ہمیشہ خدا تعالیٰ پر توکل کرنے والے ہیں۔آگے روایت اس طرح چلتی ہے کہ آپ نہ تند خو ہیں، نہ سخت (دل) اور نہ گلیوں میں شور و غوغا کرنے والے ہیں اور نہ بدی کا بدی سے جواب دینے والے ہیں۔بلکہ درگزر کرنے والے اور معاف کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر گز آپ کو وفات نہ دے گا جب تک کہ آپ کے ذریعہ سے ٹیڑھی قوم کو سیدھا (نہ) کر دے اور لوگ یہ کہنے لگیں کہ لَا إِلهَ إِلَّا الله اور آپ کے ذریعہ سے اندھے بینا ہوں اور بہرے سنے لگیں اور دلوں کے پردے اٹھ جائیں۔(بخاری کتاب البيوع - باب كراهية السخب في السوق ) پس یہ وہ متوکل انسان تھا جس کا نام سینکڑوں ہزاروں سال پہلے سے اللہ تعالیٰ نے منو گل رکھ دیا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف خود تو گل کے اعلیٰ نمونے دکھائے بلکہ اپنے مانے والوں میں، اپنی امت میں بھی یہ وصف پیدا کرنے کی کوشش فرمائی۔آپ کی زندگی میں جو تو کل کی مثالیں ملتی ہیں، ان میں سے چند مثالیں یہاں رکھتا ہوں۔لیکن پہلے یہ مختصر ابتا دوں کہ تو کل کہتے کسے ہیں؟ کیا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانے کو؟ کچھ کام نہ کرنے کو؟ اور صرف یہ کہنا کہ ہم بیٹھے ہیں، اللہ تعالیٰ ہماری ضروریات پوری کر دے گا!۔یہ تو کل نہیں ہے۔بلکہ تمام وسائل کو بروئے کار لا کر ، استعمال کر کے پھر اللہ تعالیٰ پر انحصار کرنا اور اس کے آگے جھکنا، یہ تو کل ہے۔اس کی تعریف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یوں فرمائی ہے کہ : ” توکل یہی ہے کہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے کسی امر کے حاصل کرنے کے واسطے مقرر کئے ہوئے ہیں ان کو حتی المقدور جمع کرو اور پھر خود دعاؤں میں لگ جاؤ کہ اے خدا تو ہی اس کا انجام بخیر کر۔صد ہا آفات ہیں اور ہزاروں مصائب ہیں جو اُن اسباب کو بھی برباد اور تہ و بالا کر سکتے ہیں، اُن کی دست برد سے بچا کر ہمیں کچی کامیابی اور منزل مقصود پر پہنچا۔( ملفوظات جلد 3 صفحه 146۔جدید ایڈیشن - الحكم جلد 7 مورخه 24 مارچ 1903ء صفحه 10)