خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 214
خطبات مسرور جلد سوم 214 خطبہ جمعہ 8 اپریل 2005 ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی طریق تھا کہ جب بھی کوئی مشکل گھڑی آتی جس سے آپ کے دل میں گھبراہٹ پیدا ہوتی تو آپ تمام ظاہری کوششیں کرنے کے بعد، تمام ظاہری اسباب استعمال کرنے کے بعد، اللہ تعالیٰ پر معاملہ چھوڑ دیا کرتے تھے۔چنانچہ ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ گھبراہٹ کے وقت آپ فرماتے کہ کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے۔وہ ربّ ہے۔بڑے تخت حکومت کا، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔وہ آسمانوں کا رب ہے، وہ زمینوں کا رب ہے۔وہ بزرگ تخت کا رب ہے۔یعنی وہی ہر چیز کا مالک ہے، وہی اس کا رب ہے، اس لئے اسی پر ہر قسم کا انحصار ہونا چاہئے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے بڑے مواقع پر بھی آپ اسی طرح تو کل فرمایا کرتے تھے کہ جس طرح کوئی بات ہی نہیں ہوئی۔اپنی طرف سے اسباب استعمال کر لئے اس کے بعد ہر چیز خدا پر چھوڑ دی۔دیکھیں وہ واقعہ جب آپ اکیلے ہیں، طائف کے سرداروں کو تبلیغ کے لئے نکلے ہیں جنہوں نے ظلم کی انتہا کی۔واپس آتے ہیں، بظاہر مکہ میں بھی داخل ہونے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ایک خادم ساتھ ہیں، اور خادم پریشان ہے اب کیا ہوگا؟ لیکن آپ کو اپنے رب پر پورا تو کل ہے۔چنانچہ اس کا ذکر کرتے ہوئے وہی خادم حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اب آپ مکہ میں کیسے داخل ہوں گے جبکہ وہ آپ کو نکال چکے ہیں۔ادھر بھی رستہ نہیں ہے، اُدھر بھی رستہ نہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس شان تو کل سے جواب دیا کہ اے زید ! تم دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ ضرور کوئی راہ نکال دے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے دین کا مددگار ہے۔وہ اپنے نبی کو غالب کر کے رہے گا۔چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سرداران قریش کو پیغام بھجوائے کہ آپ کو اپنی پناہ میں لے کر مکہ میں داخلے کا انتظام کریں۔سارے سرداروں نے انکار کیا۔آخر ایک شریف سردار مطعم بن عدی نے آپ کو اپنی پناہ میں مکہ میں داخل کرنے کا اعلان کیا۔صل الله ابن سعد۔طبقات الكبرى۔ذكر سبب رسول الله علم الى الطائف) پس رواج کے مطابق آپ نے تدبیر تو کی لیکن تو کل اپنے خدا پر ہی تھا اور اس تدبیر سے پہلے ہی آپ کو یقین تھا کہ میں ضرور داخل ہو جاؤں گا۔