خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 212
خطبات مسرور جلد سوم 212 خطبہ جمعہ 8 اپریل 2005ء ہم کمزور ہیں اور اتنی طاقتوں کے سامنے ہم کس طرح مقابلہ کر سکتے ہیں۔اور پھر یہ بھی کہ دشمن پر بھی اظہار ہو جائے کہ ہم تمہارے سامنے جھکنے والے نہیں ، ہم ہمیشہ کی طرح اس خدائے واحد پر ہی تو کل کرتے ہیں اور اس یقین سے پُر ہیں کہ وہ ہمیشہ کی طرح ہمارا مددگار ہوگا، ہماری مددفر ما تا رہے گا۔اور دشمن ہمیشہ کی طرح ناکام و نامراد ہوگا۔اس کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہو گی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یا اسلام کو کوئی نقصان پہنچا سکے۔پس جیسا کہ میں نے کہا کہ آپ کو تو پہلے سے ہی خدا پر اس قدر یقین تھا اور تو کل تھا کہ جس کی کوئی انتہا نہیں۔آپ نے تو تو کل کے اُس وقت بھی اعلیٰ معیار قائم کئے تھے جب آپ کے ساتھی کمزور تھے اور دشمن کے مقابلے کے لئے ہاتھ نہیں اٹھا سکتے تھے۔آپ نے تو اس وقت بھی تو تکل کے نمونے دکھائے جب آپ اکیلے تھے اور اکیلے ہی دوسرے شہروں میں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کے لئے چلے جایا کرتے تھے۔آپ کو تو اس وقت بھی خدا تعالیٰ کی ذات پر پورا بھروسہ تھا اور توکل اور یقین تھا کہ آخر کار جیت میری ہی ہونی ہے۔اور آپ نے تو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق یہی آواز بلند کی قُلْ هُوَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ - عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ مَتَاب (الرعد: (31) کہ تو کہ دے وہ میرا رب ہے کوئی معبود اس کے سوا نہیں ، اسی پر میں تو کل کرتا ہوں اور اسی کی طرف میرا عاجزانہ جھکنا ہے۔پس یہ آپ کے توکل کی قرآنی گواہی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو یہ اعلان کرنے کے لئے کہہ رہا ہے کہ میں جو تیرے دل کا بھی حال جانتا ہوں، میں یہ کہتا ہوں کہ اعلان کر دے کہ تو نے ہمیشہ مجھ پر توکل کیا ہے۔پھر پہلی کتابوں میں بھی آپ کی اعلیٰ صفات کا ذکر ملتا ہے جن میں تو کل کی صفت بھی ہے۔اس بارے میں ایک روایت میں یوں ذکر آتا ہے۔حضرت عطا بن لیسار سے روایت ہے آپ بیان کرتے ہیں کہ میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے ملا۔میں نے کہا مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس صفت کے متعلق بتائیں جو تورات میں مذکور ہے۔انہوں نے فرمایا۔اللہ کی قسم ! آپ کو تو رات میں بعض ایسی صفات سے موصوف کیا گیا ہے جن سے قرآن میں بھی آپ کو موصوف کیا گیا ہے۔پھر قرآنی آیت پڑھی کہ تايُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا