خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 211
خطبات مسرور جلد سوم 211 (13) خطبہ جمعہ 8 اپریل 2005ء عظ آنحضرت صلی اللہ وسلم کا خلق و توکل علی اللہ خطبہ جمعہ فرمودہ 8 اپریل 2005ء بمقام مسجد بیت الفتوح۔مورڈن ،لندن۔تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت قرآنی کی تلاوت کی :۔وَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ وَكَفَى بِاللهِ وَكِيلًا (الاحزاب :4) پھر فرمایا:۔اور اللہ ہی پر توکل کر اور اللہ ہی کارساز کے طور پر کافی ہے۔یہ قرآنی فرمان اصل میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک تسلی کا پیغام تھا کہ اے نبی ! صلی اللہ علیہ وسلم تو بھی بے فکر رہ اور اپنے صحابہ کو بھی تسلی کروا دے کہ جیسے بھی حالات ہوں۔ہوسکتا ہے وسیع پیمانے پر تجھے اور تیری جماعت کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے ، تمام قبائل جمع ہو کر تجھے اور تیری جماعت کو ختم کرنے کی کوشش کریں لیکن یہ کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔پہلے بھی اللہ تعالیٰ کار ساز رہا ہے، تجھے ہر مشکل اور ہر مصیبت سے نکالتا رہا ہے اور آئندہ بھی وہی کارساز ہے۔جیسے مرضی حالات ہوں، دشمن کے جو بھی منصوبے ہوں، جیسے بھی منصو بے ہوں، دشمن کبھی بھی اسلام کو مٹانے کی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔پس آپ اسی پر ہمیشہ کی طرح تو کل کرتے رہیں۔یہ تسلی خدا تعالیٰ نے اس لئے نہیں دی تھی کہ خدانخواستہ آپ خوفزدہ تھے یا تو کل میں کوئی کمی آگئی تھی۔بلکہ یہ صحابہ کے حو صلے بڑھانے کے لئے تھا کہ کسی کمزور دل میں بھی کبھی یہ خیال نہ آئے کہ