خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 209
خطبات مسرور جلد سوم 209 خطبہ جمعہ یکم اپریل 2005ء تو یہ نصیحت تھی سب امت کو کہ اس طرح شکر ادا کرتے ہوئے اپنا حال بتانا چاہئے۔ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور تعریف کرتے ہوئے اور شکر کرتے ہوئے زندگی گزارنی چاہئے۔آپ اپنے پیاروں کے بارے میں ہمیشہ یہ پسند فرماتے تھے کہ وہ شکر گزار بنیں۔66 چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ معاذ رضی اللہ عنہ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک دفعہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے معاذ بخدا میں تم سے محبت کرتا ہوں اور اے معاذ میری تمہیں یہ نصیحت ہے کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا کرنا کبھی نہ بھولنا کہ ” اللَّهُمَّ أَعِنِّيْ عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ ، یعنی اے میرے اللہ مجھے توفیق بخش کہ میں تیرا ذ کر کروں اور تیرا شکر کروں اور احسن رنگ میں تیری عبادت کروں۔(ابو داؤد كتاب الوتر۔باب في الاستغفار ) پھر آپ ہمیں نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جس نے کھانا کھایا اور اس نے دعا کی ك الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِيْ هَذَا وَرَزَقَنِيْهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ غُفِرَلَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِه یعنی سب تعریف اللہ کی ہے جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور مجھے یہ رزق بغیر اس کے کہ میری کسی طاقت یا قوت کا دخل ہو عطا فرمایا۔تو اس سے اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں (ترمذى۔كتاب الدعوات۔باب ما يقول اذا فرغ من الطعام ) گے۔پس شکر گزاری کے جذبات ہی ہیں جو گناہوں کی بخشش کے بھی سامان کرتے ہیں اور پھر اس وجہ سے مزید نیکیاں کرنے کی توفیق بھی پیدا ہوتی ہے۔پھر آپ نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے۔حضور نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا، جو تھوڑے پر یعنی چھوٹی بات پر شکر نہیں کرتا وہ بڑی نعمت پر بھی شکر ادا نہیں کرتا اور جو بندوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کیا کرتا۔اور نعماء الہیہ کا ذکر کرتے رہنا شکر گزاری ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کی جو نعمتیں ہیں انسان کے اوپر ان کا ہر وقت شکر ادا کرتے رہنا چاہئے۔اور اس کا ذکر نہ کرنا کفر اور ناشکری ہے۔اور جماعت ایک رحمت ہے اور تفرقہ بازی عذاب ہے۔اس پر بھی شکر کرنا چاہئے کہ ایک جماعت سے منسلک ہے انسان۔پھر امت کو دنیا کی