خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 180
خطبات مسرور جلد سوم 180 خطبہ جمعہ 25 / مارچ 2005ء واقعات بیان کروں گا جس سے آپ کے خلق کے اس عظیم پہلو پر بھی روشنی پڑتی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق ، جو آیت میں نے پڑھی ہے، اس قدر مشورے لیا کرتے تھے کہ ہر ایک کو صاف نظر آ رہا ہوتا تھا کہ آپ جیسا مشورے لینے والا اور اچھے مشورے کی قدر کرنے والا کوئی ہے ہی نہیں۔چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ” میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اپنے اصحاب سے کسی کو مشورہ کرنے والا نہیں پایا۔“ (سنن الترمذى - ابواب فضائل الجهاد۔باب ما جاء في المشورة ) اور یہ سب کچھ جیسا کہ میں پہلے بیان کر آیا ہوں اس لئے تھا کہ لوگوں کو احساس ہو کہ میں جو اللہ تعالیٰ کا نبی ہو کر بعض اہم معاملات میں مشورہ لیتا ہوں یا ایسے معاملات میں مشورہ لیتا ہوں جن میں اللہ تعالیٰ کی براہ راست رہنمائی نہیں آئی ہوتی تو تم لوگوں پر اس پر عمل کرنا کس قدر ضروری ہے۔پھر باوجود اس کے کہ آپ میں نور فراست اپنے صحابہ سے ہزاروں ہزار گنا زیادہ تھا۔لیکن کبھی صحابہ کے سامنے اس کا اظہار نہیں کیا بلکہ مشوروں کے وقت بھی اپنی اس عاجزی کے خُلق کو ہی سامنے رکھا۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن بھیجوانے کا ارادہ فرمایا تو حضور نے صحابہ میں بہت سے لوگوں سے مشورہ طلب فرمایا۔ان صحابہ میں ابوبکر، عمر، عثمان علی، طلحہ زبیر اور بہت سارے صحابہ تھے (رضی اللہ عنہم )۔حضرت ابو بکر نے عرض کی کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے مشورہ نہ طلب فرماتے تو ہم کوئی بات نہ کرتے۔حضور نے فرمایا کہ جن امور کے بارے میں مجھے وجی نہیں ہوتی ان کے بارے میں میں تمہاری طرح ہی ہوتا ہوں۔معاذ بتاتے ہیں کہ حضور کے اس فرمان کے مطابق جب حضور رائے لے رہے تھے قوم کے ہر شخص نے اپنی اپنی رائے بیان کی۔اور اس کے بعد حضور نے فرمایا معاذ ! تم بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟ تو میں نے عرض کی کہ میری وہی رائے ہے جو حضرت ابو بکر کی ہے۔(مجمع الزوائد للهيثمي كتاب العلم۔باب الأجتهاد )