خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 181 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 181

خطبات مسرور جلد سوم 181 خطبہ جمعہ 25 / مارچ 2005ء دیکھیں کس سادگی سے فرمایا کہ مجھے مشورہ دو۔کیونکہ جن معاملات میں مجھے اللہ تعالیٰ نہیں بتا تا ان میں میں بھی تمہاری طرح کا ہی ایک انسان ہوں جس کو مشوروں کی ضرورت ہے۔پھر دیکھیں جب آپ کی سب سے چہیتی بیوی پر الزام لگا۔اس وقت اگر آپ چاہتے اور یہ عین انصاف کے مطابق بھی ہے کہ حضرت عائشہ سے پوچھ کر اس الزام کا رد فرما سکتے تھے ، غلط الزام تھا۔لیکن منافقین کے فتنہ کو روکنے کے لئے آپ خاموش رہے اور صحابہ سے اس بارے میں مشورہ کیا۔کیونکہ آپ سمجھتے تھے کہ یہ معاملہ اب ذات سے نکل کر معاشرے میں فتنہ پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے۔چنانچہ اس سلسلہ میں حضرت عائشہؓ خود ہی روایت کرتی ہیں کہ واقعہ افک کے سلسلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب اور اسامہ بن زید کو اس وقت بلوایا جب آپ ابھی وحی کے منتظر تھے اور ان دونوں سے حضرت عائشہ سے علیحدگی کے بارے میں مشورہ طلب فرمایا۔اس پر حضرت اسامہ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اہل سے تعلق محبت رکھنے کا مشورہ دیا۔لیکن پھر بھی حضرت عائشہ کے مطابق یہ سرد مہری جاری رہی۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے بریت ثابت فرمائی۔“ (بخارى - كتاب الشهادات - باب تعديل النساء بعضهن بعضا) اور جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ کی بریت ثابت فرما دی تو پھر مجرموں کو سزا بھی آپ نے دی۔پھر کوئی پرواہ نہیں کی کہ اس کا اثر کیا ہوگا۔اس بارے میں ایک روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی اور حضرت اسامہ سے حضرت عائشہ پر لگائے گئے بہتان کے بارے میں مشورہ کیا اور ان کی رائے سنی۔لیکن جب اس بارے میں قرآن کریم نازل ہوا تو اس کے مطابق تہمت لگانے والوں کو کوڑے لگوائے اور حضرت علیؓ اور حضرت اسامہ کے اختلاف رائے کی طرف التفات نہ فرمایا بلکہ وہی حکم جاری فرمایا جس کا اللہ نے آپ " کو حکم دیا تھا۔(بخاری - کتاب الأعتصام بالكتاب والسنّة - باب قول الله تعالى وامرهم شورى بينهم )