خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 161 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 161

خطبات مسرور جلد سوم 161 خطبہ جمعہ 18 / مارچ 2005ء کر سخاوت کر نیوالا ہے۔اور پھر میں تمام انسانوں میں سے سب سے بڑا سخی ہوں۔(مجمع الزوائد للهيثمي ، كتاب علاماة النبوة باب في جوده ) اب یہ کوئی زبانی دعوی نہیں ہے بلکہ جیسا کہ میں چند مثالیں پیش کروں گا اس سے ثابت ہوگا کہ آپ سے بڑھ کر حقیقت میں دنیا میں کوئی بھی پیدا نہیں ہوا۔آپ کو کبھی یہ خیال نہیں آیا که به دولت خدا تعالیٰ نے مجھے دی ہے، مجھے اپنے آرام کے لئے اسے رکھنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے آپ " کی زندگی میں بے شمار ایسے مواقع پیدا کئے جب آپ کے پاس دولت کے انبار لگ گئے۔لیکن آپ نے کبھی ان کو آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا بلکہ فوری طور پر لوگوں میں تقسیم کرنے کی فکر ہوتی تھی۔چنانچہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ " إِنَّمَا أَنَا فَاسِمٌ وَيُعْطِى الله “ کہ میں تو صرف قاسم ہوں۔خدا تعالیٰ دیتا ہے اور میں تقسیم کر دیتا ہوں۔(بخارى ، كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة ، باب قول النبي ﷺ لا تزال طائفة من امتى ظاهرين على الحق۔۔۔۔۔۔۔۔ان تقسیم کرنے کے نظاروں کی تصویر کشی مختلف روایات میں ہوئی ہے صحابہ نے اپنے اپنے رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جودوسخا کے واقعات کو بیان فرمایا ہے۔ان روایات کو بھی پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ صحابہ اس سے بھی زیادہ کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن الفاظ ساتھ نہیں دیتے تھے۔چنانچہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ " كَانَ النبي ﷺ أَحْسَنَ النَّاسِ وَأَجْوَدَ النَّاسِ“ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب انسانوں میں سے حسین ترین اور سب انسانوں میں سے زیادہ بنی اور سب سے بہادر تھے۔(بخاری - كتاب الادب باب حسن الخلق والسخاء۔۔۔۔۔۔۔) پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بہادر، معزز یخنی اور نورانی وجود کسی کو نہیں دیکھا۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد اوّل ذكر صفة اخلاق رسول الله صلى الله