خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 162 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 162

خطبات مسر در جلد سوم 162 خطبہ جمعہ 18 / مارچ 2005ء حضرت عبداللہ بن عباس نے بیان کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے بڑھ کر سخی تھے اور آپ کی سخاوت رمضان کے مہینے میں اپنے انتہائی عروج پر پہنچ جاتی تھی۔جب جبرئیل آپ سے ملاقات کرتے تھے اس وقت آپ کی سخاوت اپنی شدت میں تیز آندھی سے بھی بڑھ جاتی تھی۔صل الله (بخارى - كتاب الصوم - باب أجود ما كان النبى يكون في رمضان) آپ کی سخاوت کا عمومی رنگ بھی ایسا تھا کہ جس کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔جیسا کہ میں آگے بعض روایات سے پیش کروں گا۔لیکن صحابہ کہتے ہیں کہ رمضان میں تو اس سخاوت کا رنگ ہی کچھ اور ہوتا تھا۔یہ کبھی عام حالات میں بھی نہیں ہوا کہ کبھی کسی نے مانگا ہو اور آپ نے نہ دیا ہو۔حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا ہو اور آپ نے نہ کہا ہو۔اگر ہوتا تو عطا فرما دیتے ورنہ خاموش رہتے ، یا اس کے لئے دعا کر دیتے۔(شرح مواهب اللدنيه للزرقاني الفصل الثاني قيما اكرمه الله تعالى به من الاخلاق الزكية ) پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابوسعید خدری روایت کرتے ہیں کہ بعض انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیا۔انہوں نے پھر مانگا تو آپ نے مزید عطا فرمایا۔انہوں نے پھر مانگا تو آپ نے کچھ اور عطا فرمایا یہاں تک کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کچھ تھا وہ ختم ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس جو مال ہوتا ہے اسے تم سے روک کر نہیں رکھتا۔(بخارى كتاب الزكاة - باب الاستعفاف۔المسألة) عن پھر ایک روایت میں حضرت سھل بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لباس کی ضرورت محسوس کر کے ایک صحابیہ نے ایک خوبصورت چادر کڑھائی کر کے آپ کی خدمت میں پیش کی۔اور عرض کی کہ یہ میں نے آپ کے لئے اپنے ہاتھ سے بنی ہے تاکہ آپ اس کو استعمال فرمائیں۔( کیونکہ آپ سب کچھ دے دیا کرتے تھے، اپنے لئے نہیں رکھتے