خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 121 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 121

خطبات مسرور جلد سوم 121 خطبہ جمعہ 25 فروری 2005ء یہ بھی روایت میں آتا ہے کہ ایک شیشی میں رکھا کرتے تھے۔اس سے خوشبولگایا کرتے تھے۔صلى الله (شمائل ترمذی باب ماجاء في تعطر رسول الله ﷺ پھر آپ کی حیا ہے۔وہ بھی آپ میں اس قدر تھی کہ جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔اور آپ نے فرمایا کہ حیا ایمان کا حصہ ہے۔بچپن میں بھی آپ میں اتنی حیا تھی کہ ایک موقع پر آپ کا کپڑا اوپر ہونے پر جب آپ کونگ کا احساس ہوا تو آپ کی آنکھیں پتھرا گئی تھیں۔حالانکہ وہ کوئی ایسی بات نہیں تھی اور اس وقت آپ کی عمر بھی چھوٹی تھی لیکن آپ کی حیادار فطرت کو اتنا بھی گوارا نہیں ہوا۔اور پھر جب آپ نے اپنے نمونے قائم کرنے تھے پھر تو اس حیا میں کوئی مقابلہ ہی نہیں کر سکتا۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پرده دار کنواری دوشیزہ سے بھی زیادہ حیادار تھے۔(بخارى كتاب المناقب - باب صفة النبي ) صلى الله عليه۔اور آپ جب بھی کوئی نا پسندیدہ چیز کو دیکھتے تو ہم اسے آپ کے چہرہ مبارک سے جان لیا کرتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اعلیٰ نمونوں کی وجہ سے صحابہ کا اخلاص بھی اس قدر بڑھ گیا تھا کہ وہ ہر وقت آپ کے چہرے کو دیکھا کرتے تھے کہ اس سے آپ کی پسند اور نا پسند کا پتہ لگائیں اور پھر آپ کی خواہش کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالیں۔حضرت حسان بن ثابت ایک قصیدے میں فرماتے ہیں۔وَأَحْسَنُ مِنْكَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَيْنِيْ وَأَجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءِ کہ تجھ سے زیادہ حسین میری آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا اور نہ ہی تجھ سے زیادہ خوبصورت بچہ کسی عورت نے جنا ہے۔پھر کہتے ہیں کہ ے خُلِقْتَ مُبَرَّءُ مِنْ كُلِّ عَيْبٍ كَأَنَّكَ قَدْ خُلِقْتَ كَمَا تَشَاءُ کہ آپ ہر عیب و نقص سے پاک بنائے گئے گویا کہ آپ اپنی مرضی سے اور جس طرح