خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 120 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 120

خطبات مسرور جلد سوم 120 خطبہ جمعہ 25 فروری 2005ء زمین آپ کے لئے سمٹتی جاتی تھی۔ہمیں آپ کے ساتھ چلتے رہنے میں کافی وقت پیش آتی تھی جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی معمول کی رفتار سے چل رہے ہوتے تھے۔(شمائل ترمذی - باب ما جاء في مشية رسول الله صل الله وسلم حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روشن اور صاف رنگ کے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ موتیوں کی طرح نظر آتا تھا۔اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے تھے تو جس طرح آدمی ڈھلوان سے اترتے ہوئے چل رہا ہوتا ہے آپ کے چلنے میں اس طرح کی روانی ہوتی تھی۔(مسلم - كتاب الفضائل - باب طيب ريحه۔۔۔۔۔۔آپ کے ہاتھوں کی نرمی کے بارے میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کوئی ریشم یاریشم ملا کپڑا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم ہو کبھی نہیں چھوا۔صلى الله (بخارى كتاب المناقب - باب صفة النبي ﷺ با وجود اس کے کہ گھریلو کام بھی کرتے تھے، جنگوں میں بھی حصہ لیتے تھے۔سب صحابہ سے سخت جان تھے۔جنگ احزاب میں جب ایک جگہ چٹان نہیں ٹوٹ رہی تھی تو آپ کی ضربات نے ہی اسے ریزہ ریزہ کر دیا تھا۔تو نرم ہاتھوں سے کوئی اس غلط فہمی میں نہ پڑے کہ ان ہاتھوں نے مشقت نہیں کی تھی۔یہ ہاتھ تو سب سے زیادہ مشقت کرنے والے ہاتھ تھے اور اس کی بے شمار مثالیں ہیں۔آپ کو خوشبو بہت پسند تھی۔خوشبولگایا کرتے تھے۔حضرت جابر بن سمرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی آپ اپنے اہل خانہ کی طرف چلے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہولیا تو کچھ بچے آپ کے سامنے آگئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ہر ایک کے رخسار کو چھونے اور پیار کرنے لگے۔راوی بیان کرتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گال پر بھی پیار کرتے ہوئے چھوا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھنڈا اور ایسا خوشبو دار پایا گویا کہ آپ نے اسے کسی عطار کے برتن میں سے نکالا ہے۔(مسلم - كتاب الفضائل - باب طيب ريحه ولين مسه۔۔۔۔) خوشبو آپ کو بہت پسند تھی ، خوشبولگایا کرتے تھے اور ایک خاص جگہ رکھا کرتے تھے۔