خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 119 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 119

خطبات مسرور جلد سوم 119 خطبہ جمعہ 25 فروری 2005ء چمکیلے، آنکھوں کے کوئے باریک، گردن صراحی دار مگر چاندنی کی طرح شفاف جس پر سرخی جھلکتی تھی۔معتدل الخلق ، بدن کچھ فربہ لیکن بہت موزوں۔پیٹ اور سینہ ہموار ہوتا تھا۔سینہ چوڑا اور فراخ۔جوڑ مضبوط اور بھرے ہوئے۔جلد چمکتی ہوئی نازک اور ملائم۔چھاتی اور پیٹ بالوں۔ނ بالکل صاف سوائے ایک بار یک سی دھاری کے جو سینے سے ناف تک چلی گئی تھی۔کہنیوں تک دونوں ہاتھوں اور کندھوں پر کچھ کچھ بال۔پہنچے لمبے، ہتھلیاں چوڑی، اور گوشت سے بھری ہوئی۔انگلیاں لمبی اور سڈول۔پاؤں کے تلوے قدرے بھرے ہوئے۔قدم نرم اور چکنے کہ پانی بھی ان کے اوپر سے پھسل جائے۔جب قدم اٹھاتے تو پوری طرح اٹھاتے۔رفتار با وقار لیکن کسی قدر تیز جیسے بلندی سے اتر رہے ہوں۔جب کسی کی طرف رخ پھیرتے تو پورا رخ پھیرتے۔نظر ہمیشہ نیچی رہتی۔یوں لگتا جیسے فضا کی نسبت زمین پر آپ کی نظر زیادہ پڑتی ہے۔آپ اکثر نیم وا آنکھوں سے دیکھتے۔اپنے صحابہ کے پیچھے چلتے اور ان کا خیال رکھتے۔ہر ملنے والے کو سلام میں پہل فرماتے۔(شمائل ترمذی - باب ماجاء فى خُلُقٍ رسول الله ﷺ یہ آپ کے حسن دو وجاہت اور اعلیٰ خلق کا ایک ایسا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ جو کچھ بھی انسانی طاقت کسی چیز کو بیان کرنے کی ہے اس طرح بیان کیا گیا ہے۔لیکن جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ آپ کا ہر خلق عظیم تھا اور ہر معاملے میں آپ کی عظمت اتنی تھی کہ احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔پھر بھی لگتا ہے کہ یہاں کمی رہ گئی ہے۔اس سے بہت بڑھ کر ہوں گے جو بیان ہوا ہے۔آپ کے حسن کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر شفاف حسین اور خوبصورت تھے گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن مبارک چاندی سے ڈھالا گیا ہے۔(شمائل ترمذی - باب ماجاء في خلق رسول الله ﷺ اور آپ کی خوبصورت چال کا نقشہ یوں کھینچا گیا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین کوئی نہیں دیکھا گویا آپ کا چہرہ مبارک ایک درخشندہ آفتاب کی مانند تھا۔اور میں نے چلنے میں آپ سے تیز کسی کو نہیں پایا گویا