خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 118 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 118

خطبات مسرور جلد سوم 118 خطبہ جمعہ 25 فروری 2005ء دل بھی چاہتا ہے۔یہ اپنا گرویدہ بھی بنالیتی ہے۔اس حسین چہرے میں تو ٹھنڈک ہی ٹھنڈک تھی۔تلوار کی مثال تو نہیں دی جاسکتی جس میں کاٹنے کی خاصیت ہے۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن تو دلوں کو موہ لینے والا حسن تھا۔پھر حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔آپ کا چہرہ دمک رہا تھا اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی کی خبرملتی تھی تو آپ کا چہرہ ایسے چمک اٹھتا تھا گویا چاند کا ٹکڑا ہے اور اسی سے ہم آپ کی خوشی پہچان لیتے تھے۔(بخارى كتاب المناقب - باب صفة النبى - حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو چاندنی رات میں دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرخ رنگ کا لباس زیب تن فرمایا ہوا تھا میں کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا اور کبھی چاند کو۔پس میرے نزدیک تو آ نحضور صلی اللہ علیہ وسلم يقينا أَحْسَنُ مِنَ القَمَرَ یعنی چاند سے کہیں زیادہ حسین تھے۔(شمائل ترمذى۔باب ماجاء فى خلق رسول الله ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و جمال، خوبصورتی ، وجاہت اور اخلاق کے بارے میں ایک تفصیلی روایت اس طرح بیان ہوئی ہے۔حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے ماموں ہند بن ابی ہالہ سے جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کرنے میں بڑے ماہر تھے اور میں چاہتا تھا کہ یہ میرے پاس ایسی باتیں بیان کریں جنہیں میں گرہ میں باندھ لوں۔چنانچہ ہند نے بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بارعب اور وجیہہ شکل وصورت کے تھے۔چہرہ مبارک یوں چمکتا تھا گویا چودھویں کا چاند۔میانہ قد یعنی پستہ قامت سے دراز اور طویل قامت سے قدرے چھوٹا۔یعنی نہ چھوٹا قد تھا نہ بہت لمبا۔درمیانہ قد تھا۔سر بڑا ، بال خم دار اور گھنے جو کانوں کی لو تک پہنچتے تھے۔مانگ نمایاں، رنگ کھلتا ہوا سفید، پیشانی کشادہ، ابر و لمبے باریک اور بھرے ہوئے جو باہم ملے ہوئے نہیں تھے بلکہ درمیان میں سفید سی لکیر نظر آتی تھی جو غصے کے وقت نمایاں ہو جاتی تھی۔ریش مبارک گھنی ، رخسار نرم اور ہموار، دہن کشادہ ، دانت ریخدار اور