خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 103
خطبات مسرور جلد سوم 103 خطبہ جمعہ 18 فروری 2005ء کرنا پڑا تھا۔خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی زخمی ہوئے تھے لیکن یہ چیز آپ کی عبادت کے رستے میں روک نہیں بن سکی۔آپ کی عبادت کے رستے میں حائل نہیں ہوسکی۔ایک روایت میں آتا ہے : غزوہ اُحد کی شام جب لوہے کے خود کی کڑیاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے رخسار میں ٹوٹ جانے کی وجہ سے آپ کا بہت سا خون بہہ چکا تھا۔کلے پر لگنے کی وجہ سے خون بہہ چکا تھا۔آپ زخموں سے نڈھال تھے۔علاوہ ازیں 70 صحابہ کی شہادت کا زخم اس سے کہیں بڑھ کر اعصاب شکن تھا۔اس روز بھی آپ بلال کی ندا پر ( یعنی بلال کی اذان کی آواز پر ) نماز کے لئے اسی طرح تشریف لائے جس طرح عام دنوں میں تشریف لاتے تھے۔غرضیکہ واقعات تو بہت ہیں۔آپ کی زندگی کا تو ہر ہرلحہ عبادتوں سے سجا ہوا تھا۔نہ صرف یہ بلکہ اپنی امت کے افراد میں بھی ، صحابہ میں بھی عبادتوں کے معیار قائم کروا کر دکھائے۔نصیحت بھی تبھی اثر کرتی ہے جب نصیحت کرنے والا خود اپنے عمل سے بھی انتہائی معیار دکھا رہا ہو۔اور اس بارے میں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ آپ نے جو کہا وہ کیا نہیں۔بلکہ صحابہ کی یہ حسرت ہوتی تھی کہ ہم بھی اتنا کر سکیں جتنا آپ کرتے ہیں۔غرضیکہ آپ نے ان لوگوں میں ایک انقلاب پیدا کر دیا تھا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ” میں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ خواہ کیسا ہی پکا دشمن ہو اور خواہ وہ عیسائی ہو یا آریہ جب وہ ان حالات کو دیکھے گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عرب کے تھے اور پھر اس تبدیلی پر نظر کرے گا جو آپ کی تعلیم اور تا شیر سے پیدا ہوئی تو اسے بے اختیار آپ کی حقانیت کی شہادت دینی پڑے گی“۔لیکن بعض ایسے اندھے ہوتے ہیں جو اس طرح جائزہ نہیں لیتے یا دیکھتے ہیں تو آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔فرمایا : کہ موٹی سی بات ہے کہ قرآن مجید نے ان کی پہلی حالت کا تو یہ نقشہ کھینچا ہے ﴿ يَا كُلُوْنَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ (محمد : 13) یہ تو ان کی کفر کی حالت تھی۔یعنی وہ اس طرح کھاتے ہیں جس طرح جانور کھا رہے ہوتے ہیں۔لیکن پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تاثیرات نے ان میں تبدیلی پیدا کی تو ان کی یہ حالت ہوگئی کہ تُون لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِيَامًا ﴾ (الفرقان : 65)