خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 102 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 102

خطبات مسرور جلد سوم 102 خطبہ جمعہ 18 فروری 2005ء بیمار تھے۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آج بیماری کا اثر آپ پر نمایاں ہے۔فرمانے لگے اس کمزوری کے باوجود آج رات میں نے نماز تہجد میں طویل سورتیں پڑھی ہیں۔(الوفاء باحوال المصطفى للجوزى باب التهجد اپنی امت کو بھی ، اپنے صحابہ کو بھی آپ نے اپنے نمونے سے یہی نصیحت فرمائی کہ خدا کی عبادت سے کبھی غافل نہ ہونا اور خاص طور پر تہجد کی نماز پر توجہ فرماتے تھے۔حضرت عبداللہ ابن ابی قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا که : قیام اللیل مت چھوڑنا اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں چھوڑتے تھے۔اور جب آپ بیمار ہو جاتے ، جسم میں سستی محسوس کرتے تو بیٹھ کر تہجد کی نماز پڑھتے۔(سنن ابی داؤد كتاب التطوع باب قيام الليل حديث نمبر 1303 ) تو اس میں اتنی با قاعدگی تھی اور یہ نصیحت بھی تھی۔تبھی تو حضرت عائشہ نے یہ نصیحت آگے چلائی ہے۔آپ کی خواہش کی تھی کہ میرے ماننے والے بھی اسی طرح نمازوں اور تہجد میں با قاعدگی اختیار کریں۔حضرت کعب بن مالک روایت کرتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ دن کے وقت سفر سے واپس تشریف لاتے اور سب سے پہلے مسجد تشریف لے جاتے۔وہاں دو رکعت نفل ادا کرتے پھر کچھ دیر وہاں بیٹھتے۔( مسلم - كتاب صلاة المسافرين وقصرها باب استحباب ركعتين في المسجد لمن قدم من سفر أول قدومه- حديث نمبر 1659 ) اب عام آدمی ہو تو سفر سے واپس آ کر یہ ہوتا ہے کہ سیدھے گھر پہنچیں، بیوی بچوں سے ملنے کی خواہش ہوتی ہے۔اپنے سفر کی تکان اتارنے کی خواہش ہوتی ہے۔لیکن ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق کیا ہے کہ آپ واپسی پر پہلے اپنے رب کے حضور حاضر ہوتے ہیں۔اس کا شکر بجالاتے ہیں۔اس کا رحم اور فضل ما نگتے ہیں۔اور پھر دوسرے کام کرتے ہیں یا گھر جاتے ہیں۔جنگ احد میں بھی مسلمانوں کو کیسی خطرناک اور خوفناک صورتحال کا سامنا