خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 104 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 104

خطبات مسر در جلد سوم 104 خطبہ جمعہ 18 فروری 2005ء یعنی وہ اپنے رب کے حضور سجدہ کرتے ہوئے اور قیام کرتے ہوئے راتیں کاٹ دیتے ہیں۔جو تبدیلی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے وحشیوں میں کی اور جس گڑھے سے نکال کر جس بلندی اور مقام تک انہیں پہنچایا اس ساری حالت کے نقشہ کو دیکھنے سے بے اختیار ہو کر انسان رو پڑتا ہے کہ کیا عظیم الشان انقلاب ہے جو آپ نے کیا۔دنیا کی کسی تاریخ اور کسی قوم میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی۔یہ نری کہانی نہیں۔یہ واقعات ہیں جن کی سچائی کا ایک زمانہ کو اعتراف کرنا پڑا ہے۔( ملفوظات جلد 5 صفحه 117 جدید ایڈیشن - البدر 17 جنوری 1907ء صفحه (11) پھر آخری بیماری میں جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شدید بخار میں مبتلا تھے اس وقت بھی اگر آپ کو فکر تھی تو صرف نماز کی تھی۔گھبراہٹ کے عالم میں بار بار پوچھتے کیا نماز کا وقت ہو گیا؟ بتایا گیا کہ لوگ آپ کے منتظر ہیں۔بخار ہلکا کرنے کی خاطر فرمایا میرے اوپر پانی کے مشکیزے ڈالو۔پانی ڈالو تعمیل ارشاد ہوئی۔حکم پورا کیا گیا۔پھر غشی طاری ہوگئی۔پھر ہوش آیا ، پھر پوچھا کہ نماز ہو گئی۔جب پتہ چلا کہ صحابہ ابھی انتظار میں ہیں تو پھر فرمایا مجھے پر پانی ڈالو۔پھر پانی ڈالا گیا۔پھر اس طرح پانی ڈالنے سے جب بخار کچھ کم ہوا تو نماز پر جانے لگے۔مگر پھر کمزوی کی وجہ سے بیہوشی کی کیفیت طاری ہوگئی۔(بخاری ، کتاب المغازی ، باب مرض النبي ﷺ و وفاته) حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: جب آپ "مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو بوجہ سخت ضعف کے نماز پڑھنے پر قادر نہ تھے۔اس لئے آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔جب حضرت ابو بکڑ نے نماز پڑھانی شروع کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آرام محسوس کیا اور نماز کے لئے نکلے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر کونماز پڑھانے کا حکم دینے کے بعد جب نماز شروع ہو گئی تو آپ نے مرض میں کچھ کمی محسوس کی آپ اس طرح مسجد کی طرف نکلے کہ دو آدمی آپ کو سہارا دے کر لے جارہے تھے۔کہتی ہیں کہ میری آنکھوں کے سامنے یہ نظارہ ہے کہ شدت درد کی وجہ سے اس وقت آپ کے قدم زمین سے گھسٹتے جاتے تھے۔آپ کو دیکھ کر