خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 650 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 650

خطبات مسرور جلد سوم 650 خطبہ جمعہ 28 اکتوبر 2005ء غرض دعاوہ اکسیر ہے جو ایک مشت خاک کو کیمیا کر دیتی ہے۔ایک مٹی کو بھی قیمتی چیز بنا دیتی ہے۔اور وہ ایک پانی ہے جو اندرونی غلاظتوں کو دھو دیتا ہے۔اس دعا کے ساتھ روح پچھلتی ہے اور پانی کی طرح بہہ کر آستانہ حضرت احدیت پر گرتی ہے۔وہ خدا کے حضور میں کھڑی بھی ہوتی ہے اور رکوع بھی کرتی ہے۔اور سجدہ بھی کرتی ہے اور اسی کی ظل وہ نماز ہے جو اسلام نے سکھائی ہے“۔(لیکچر سیالکوٹ۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 222-224) پس یہ ہے دعا کرنے کا طریق اور یہ ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہم سے تو قعات۔خدا کرے کہ اس رمضان میں ہم میں سے ہر ایک اس فلسفہ کوسمجھ کر اپنی زندگیوں کا حصہ بنائے اور یہ بہتر تبد یلیاں، پاک تبدیلیاں پھر ہماری زندگیوں کا حصہ بن جائیں۔ان دنوں میں اپنے لئے دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو، اس کے حکموں پر عمل کرنے اور چلنے کی توفیق ملے ، اس زمانے کے امام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشن کو آگے بڑھانے کی ہمیں توفیق ملے۔رمضان کی برکات ہماری زندگیوں کا مستقل حصہ بن جائیں۔جو نیکیاں ہم نے اپنالی ہیں ان کو کبھی چھوڑنے والے نہ ہوں۔اور جو برائیاں ہم نے ترک کی ہیں وہ کبھی دوبارہ ہمارے اندر داخل نہ ہوں۔ہماری اولاد در اولاد اور آئندہ نسلیں بھی خدا تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے والی اور نیکیوں پر چلنے والی ہوں۔یہ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والوں کو عقل اور سمجھ دے اور وہ اس زمانے کے امام کا انکار نہ کریں۔اس کو پہچان لیں اور اس انکار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت نہ دیں۔ہمارے دل تو بہر حال ان کی تکلیفوں سے بے چین رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں دعاؤں کی توفیق دے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آئینہ کمالات اسلام کے عربی حصے میں قوم کے بارے میں کچھ دعائیں کی ہیں۔ان میں سے چند دعائیں ایک آدھ لفظ کی معمولی تبدیلی کے ساتھ میں پڑھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔آپ نے فرمایا : اے میرے رب! میری قوم کے بارہ میں میری دعا اور میرے بھائیوں