خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 649 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 649

خطبات مسرور جلد سوم 649 خطبہ جمعہ 28 اکتوبر 2005ء مبارک وہ قیدی جو دعا کرتے ہیں۔تھکتے نہیں کیونکہ ایک دن رہائی پائیں گے۔مبارک وہ اندھے جو دعاؤں میں سست نہیں ہوتے کیونکہ ایک دن دیکھنے لگیں گے۔مبارک وہ جو قبروں میں پڑے ہوئے دعاؤں کے ساتھ خدا کی مدد چاہتے ہیں کیونکہ ایک دن قبروں سے باہر نکالے جائیں گے۔مبارک تم جب کہ دعا کرنے میں کبھی ماندہ نہیں ہوتے ، کبھی تھکتے نہیں۔اور تمہاری روح دعا کے لئے پچھلتی اور تمہاری آنکھ آنسو بہاتی اور تمہارے سینے میں ایک آگ پیدا کر دیتی ہے اور تمہیں تنہائی کا ذوق اٹھانے کے لئے اندھیری کوٹھریوں اور سنسان جنگلوں میں لے جاتی ہے۔اور تمہیں بے تاب اور دیوانہ اور از خود رفتہ بنادیتی ہے کیونکہ آخر تم پر فضل کیا جاوے گا۔وہ خدا جس کی طرف ہم بلاتے ہیں نہایت کریم و رحیم ، حیا والا ، صادق، وفا دار ، عاجزوں پر رحم کرنے والا ہے۔پس تم بھی وفادار بن جاؤ۔اور پورے صدق اور وفا سے دعا کرو کہ وہ تم پر رحم فرمائے گا۔دنیا کے شور و غوغا سے الگ ہو جاؤ اور نفسانی جھگڑوں کا دین کو رنگ مت دو۔خدا کے لئے ہارا اختیار کر لو اور شکست کو قبول کر لوتا بڑی بڑی فتحوں کے تم وارث بن جاؤ۔دعا کرنے والوں کو خدا معجزہ دکھائے گا۔اور مانگنے والوں کو ایک خارق عادت نعمت دی جائے گی۔دعا خدا سے آتی ہے اور خدا کی طرف ہی جاتی ہے۔دعا سے خدا ایسا نزدیک ہو جاتا ہے جیسا کہ تمہاری جان تم سے نزدیک ہے۔دعا کی پہلی نعمت یہ ہے کہ انسان میں پاک تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔خود بخو دانسان کو پتہ لگ جاتا ہے کہ دعا قبول ہو گئی۔اپنے اندر ایک تبدیلی نظر آ رہی ہوتی ہے۔فرمایا ”پھر اس تبدیلی سے خدا بھی اپنی صفات میں تبدیلی کرتا ہے اور اس کے صفات غیر متبدل ہیں مگر تبدیلی یافتہ کے لئے اس کی ایک الگ تجلی ہے۔صفات تو اس کی وہی ہیں لیکن ایک نیا انداز ہوتا ہے جب ایک انسان تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ان صفات کے ساتھ ہی۔جس کو دنیا نہیں جانتی گویا وہ اور خدا ہے حالانکہ اور کوئی خدا نہیں۔مگر نئی تجلی نئے رنگ میں اس کو ظاہر کرتی ہے۔تب اس خاص تجلی کے شان میں اس تبدیل یافتہ کے لئے وہ کام کرتا ہے جو دوسروں کے لئے نہیں کرتا۔یہی وہ خوارق ہے۔یہی وہ خاص چیزیں ہیں جو انسان میں دعا کے بعد پیدا ہوتی ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کے معجزات ہیں۔