خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 651 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 651

خطبات مسرور جلد سوم 651 خطبہ جمعہ 28 اکتوبر 2005ء کے بارے میں میری تضرعات کو سن۔میں تیرے نبی خاتم النبین و شفیع المذ مبین صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ دے کر عرض کرتا ہوں۔اے میرے رب ! انہیں ظلمات سے اپنے نور کی طرف نکال اور دوریوں کے صحرا سے اپنے حضور میں لے آ۔اور اپنی ہلاکت سے اس قوم کو بچا جو میرے دونوں ہاتھ کاٹنا چاہتے ہیں۔ان کے دلوں کی جڑوں میں ہدایت داخل فرما۔ان کی خطاؤں اور گناہوں سے درگزر فرما۔انہیں پاک وصاف کر اور انہیں ایسی آنکھیں دے جن سے وہ دیکھ سکیں۔اور ایسے کان دے جن سے وہ سن سکیں اور ایسے دل دے جن سے وہ سمجھ سکیں اور ایسے انوار عطا فر ما جن سے وہ پہچان سکیں اور ان پر رحم فرما اور جو کچھ وہ کہتے ہیں ان سے درگز رفرما کیونکہ ایسی قوم ہیں جو جانتے نہیں۔اے میرے رب ! حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور اور ان کے بلند درجات اور راتوں کو قیام کرنے والے مومنین اور دو پہر کی روشنی میں غزوات میں شریک ہونے والے نمازیوں اور جنگوں میں تیری خاطر سوار ہونے والے مجاہدین اور ام القری مکہ مکرمہ کی طرف سفر کرنے والے قافلوں کا واسطہ۔تو ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے درمیان صلح کروا۔تو ان کی آنکھیں کھول دے اور ان کے دلوں کو منور فرما۔انہیں وہ کچھ سمجھا جو تو نے ہمیں سمجھایا ہے۔اور ان کو تقویٰ کی راہوں کا علم عطا کر۔( ترجمه از عربی عبارت آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحات 22-23) اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں کو قبول فرمائے اور ان سب کے سینے کھولے۔谢谢谢