خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 48
خطبات مسرور جلد سوم 48 خطبہ جمعہ 28 جنوری 2005ء کسی نے بتایا کہ یہاں ایک پادری بھی آیا ہوا تھا اس نے کہا کہ ہم تمہارے یہاں صرف اس لئے آ جاتے ہیں کہ تم جو کہتے ہوا سے کر کے دکھانے کی تمہارے پاس 100 سال سے زائد کی تاریخ ہے۔تمہاری تعلیم اور عمل ایک ہے۔شاید اس بات نے دنیا کو متوجہ کرنا شروع کیا ہے۔یا بہر حال جو بھی وجہ ہو، جہاں تک جماعت کی حفاظت کا سوال ہے وہ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدہ کیا ہوا ہے، وہ تو انشاء اللہ ہوتی رہے گی۔تو اس لحاظ سے تو کوئی فکر نہیں کہ کیوں توجہ پیدا ہو رہی ہے۔نیک نیتی سے اگر توجہ ہوگی تو اللہ تعالیٰ برکت ڈالے گا اور اگر کوئی بدنیتی ہوگی تو اللہ تعالیٰ خود حفاظت کا انتظام فرمائے گا۔بہر حال یہاں جو میں نے مسجد کا ذکر کیا۔مسجد کا مینار بھی ہے جو کئی 100 فٹ اونچا ہے۔سارے شہر میں یہ سب سے اونچی عمارت ہے۔یہ کافی چوڑا ہے۔اس مینار کی چوٹی پہ جا کے چرچ میں جس طرح گھنٹیاں لگانے کا رواج ہے وہ لگی ہوئی ہیں۔اور سیڑھیوں کی بجائے اوپر جانے کے لئے کھلی جگہ ہے اور ریمپ (Ramp) بنائے ہوئے ہیں۔اس میں چل کے جانا آسان رہتا ہے اور کافی چوڑا رستہ ہے۔گائیڈ کے بقول کہ بادشاہ گھوڑوں پہ جایا کرتا تھا اس لئے اس نے سیٹرھیاں نہیں بنائیں۔پھر اس مینار کے اوپر سے اذان دی جاتی تھی۔اور اس کی آواز بھی یقیناً سارے شہر میں گونجتی ہوگی۔اور آج چرچ کی گھنٹیاں بجتی ہیں۔اس کو دیکھ کر بھی دل کہتا ہے کہ مسلمانوں نے کس طرح اپنی عظمت کو برباد کیا۔اللہ واحد کے نام پر بنائی گئی عمارتوں کو شرک کی جھولی میں کس طرح ڈال دیا۔آج احمدیوں کا کام ہے کہ اس عظمت رفتہ کو دوبارہ حاصل کریں۔لیکن پیار اور محبت اور دعاؤں سے۔اس مسجد کے ساتھ بادشاہ کا محل بھی ہے اور یہ حل جو ہے اب تک جو میں نے پسین میں عمارتیں دیکھی ہیں، غرناطہ میں بھی الحمراء کا محل بھی دیکھا تھا، اس کی نسبت گو یہ چھوٹا ہے لیکن تقریباً تمام سنبھالا ہوا ہے۔بلکہ اس کا ایک حصہ ابھی بھی سپین کے بادشاہ کی رہائش کے لئے استعمال ہوتا ہے، جب وہ اس شہر میں (اشبیلیہ میں ) آئے۔تو اس محل میں بھی جگہ جگہ جس طرح اس زمانے میں کیلیگرافی کا رواج تھا قرآنی آیات اور کلمہ، الْقُدْرَةُ لِلهِ، الْعِزَّةُ لِله وغیرہ کے الفاظ لکھے ہوئے ہیں۔یہاں کلمہ دیکھ کر یہ بھی احساس پیدا ہوتا ہے کہ ان عیسائیوں نے تو اپنی تمام تر