خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 525
خطبات مسرور جلد سوم 525 خطبہ جمعہ 26 اگست 2005 ء ألا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُوْنَ ﴾ (یونس : 63) یعنی سنو جو لوگ اللہ سے بچی محبت رکھنے والے ہیں ان پر نہ کوئی خوف غالب ہوتا ہے اور نہ وہ نہ وہ ہمگین ہوتے ہیں۔(تفسير الدر المنثور تفسير سوره یونس زیر آیت 63) دیکھیں کتنا بڑا اعزاز ہے ایسے دلوں کا جو محض اللہ محبت کرتے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت کرنے والے یقیناً ایسے اشخاص ہیں جو تقویٰ پر چلنے والے ہیں۔جو اپنے اوپر بھی اور اپنے ماحول میں بھی اللہ تعالیٰ کی خاطر اخوت قائم کرنے والے ہیں۔حقوق العباد کی ادائیگی کرنے والے ہیں اور حقوق اللہ کی بھی ادائیگی کرنے والے ہیں اور یوں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے نہ صرف تفرقہ سے بیچ رہے ہیں بلکہ محبتیں بکھیر رہے ہیں اور ایسے ہی لوگ ہیں جن کے بارہ میں کہا جاسکے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی رسی کو تھامے ہوئے ہیں۔تو جب اللہ کا بندہ اللہ کا قرب پانے کے لئے اتنی کوشش کرتا ہے تو خدا جو سب پیار کرنے والوں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے، جو سب دوستوں سے زیادہ دوستی کا حق ادا کرنے والا ہے اس خدا کے بارہ میں کس طرح سوچا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے ایسے بندے کو اپنا دوست اور ولی نہیں بنائے گا تبھی تو آنحضرت علی اللہ نے اس ارشاد فرمانے کے ساتھ ہی یہ آیت پڑھی تھی کہ والا إِنَّ أَوْلِيَاء اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُونَ﴾ (يونس: 63) اور جب ایک دفعہ انسان اللہ کا ولی بن جائے تو پھر ہمیشہ اُس سے وہی فعل سرزد ہوتے ہیں، وہی عمل ہوتے ہیں جو خدا کی منشاء کے مطابق ہوں۔اللہ تعالیٰ ان کے پچھلے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے اور آئندہ کے لئے ان سے نیک اعمال کرواتا ہے۔پس دیکھیں اللہ کی خاطر اپنے بھائیوں سے محبت کرنے کا کتنا بڑا صلہ اللہ تعالیٰ عطا فرمارہا ہے۔ان کے سب غم دور فرما دیتا ہے۔اس لئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کا جوااپنی گردن پر ڈال رہے ہیں۔اور پھر اس کے طفیل وہ ہمیشہ نیک اعمال کرنے والے بن جاتے ہیں۔ان کی ضرورتوں کو بھی اللہ تعالیٰ پورا فرما تا ہے۔ان کے خوفوں کو بھی اللہ تعالیٰ دور فرما دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی تشریح فرمائی ہے کہ : ”یقینا سمجھ کہ