خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 526 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 526

خطبات مسرور جلد سوم 526 خطبه جمعه 26 اگست 2005 ء جولوگ اللہ جل شانہ ) کے دوست ہیں یعنی جو لوگ خدائے تعالیٰ سے سچی محبت رکھتے ہیں اور خدائے تعالیٰ ان سے محبت رکھتا ہے تو ان کی یہ نشانیاں ہیں کہ نہ ان پر خوف مستولی ہوتا ہے ( یعنی نہ خوف غالب آتا ہے ) کہ کیا کھائیں گے یا کیا پیئیں گے یا فلاں بلا سے کیونکر نجات ہوگی۔کیونکہ وہ تسلی دئے جاتے ہیں۔اور نہ گزشتہ کے متعلق کوئی حزن و اندوہ انہیں ہوتا ہے ( کوئی غم نہیں ہوتا ) کیونکہ وہ صبر دیئے جاتے ہیں۔دوسری یہ نشانی ہے کہ وہ ایمان رکھتے ہیں یعنی ایمان میں کامل ہوتے ہیں اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔یعنی خلاف ایمان و خلاف فرمانبرداری جو باتیں ہیں ان 66 سے بہت دور رہتے ہیں۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات۔صفحہ 46 حاشیہ طبع اول ) تو دیکھیں جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ ایک نیکی سے پھر کئی نیکیاں پیدا ہوتی ہیں۔تفرقہ کو دُور کرتے ہوئے خدا کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے کی وجہ سے ایسے لوگوں کو روزمرہ کے مسائل سے بھی اللہ تعالیٰ غنی کر دیتا ہے۔ان کے تمام دنیاوی غم بھی مٹ جاتے ہیں۔ان کے ایمان میں بھی ترقی ہوتی ہے، ان کے تقویٰ کے معیار بھی بڑھتے ہیں ،غرض کوئی نیکی نہیں جو ان سے نہ ہورہی ہو۔پس ان محبتوں کے بکھیر نے کو معمولی چیز نہ سمجھیں۔یہ تقویٰ پر چلانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو اپنی جماعت کے ہر فرد کو فرشتوں جیسادیکھنا چاہتے تھے۔آپ فرماتے ہیں: "اس سلسلے کے قیام کی اصل غرض یہی ہے کہ لوگ دنیا کے گند سے نکلیں اور اصل طہارت حاصل کریں اور فرشتوں کی سی زندگی بسر کریں۔(ملفوظات جلد چہارم صفحه 473 جدید ایڈیشن) اور اصل طہارت اور کامل ایمان کس طرح حاصل ہوگا ؟ اس کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ : میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا ایمان ہرگز درست نہیں ہوسکتا جب تک اپنے آرام پر اپنے بھائی کا آرام حتی الوسع مقدم نہ ٹھہرا دے۔اگر میرا ایک بھائی میرے سامنے باوجود اپنے ضعف اور بیماری کے زمین پر سوتا ہے اور میں باوجود اپنی صحت اور تندرستی کے چار پائی پر قبضہ کرتا ہوں تا وہ اس پر بیٹھ نہ جاوے تو میری حالت پر افسوس ہے ( یعنی ضد میں آکر ایک کام کرنا تا کہ