خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 502
خطبات مسرور جلد سوم 502 خطبہ جمعہ 19 اگست 2005 ء دیکھیں بچپن سے ہی اس خلق کی طرف توجہ دلائی ، ان اعلیٰ اخلاق کی طرف توجہ دلائی، کھانا کھانے کے آداب کی طرف توجہ دلائی کہ ایک تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر کھاؤ تا کہ تمہیں یہ احساس بھی رہے کہ سب کچھ دینے والا اللہ تعالیٰ ہے۔پھر یہ کہ گنواروں کی طرح نہ کھاؤ۔اب تم وہ اجڈ اور جاہل عرب کے شہری نہیں رہے بلکہ تم میں وہ نبی مبعوث ہو چکا ہے جس نے اعلیٰ اخلاق قائم کرنے ہیں اس لئے تم لوگوں کو کھانا کھانے کے آداب بھی آنے چاہئیں۔ابتدائی زمانے میں جو لوگ مسلمان ہوئے تھے جب وہ مختلف باتیں سیکھتے تھے یعنی جو کچھ بھی آنحضرت عبیصلی اللہ سے سیکھایا آپ کے صحابہ سے سیکھا تو ان پر عمل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔۔اور بعض دفعہ کم علمی کی وجہ سے یہ نہیں پتہ ہوتا تھا کہ کون ساعمل موقع کی مناسبت سے جائز ہے اور کون سا نہیں۔بعض بے موقع باتیں ہو جاتی تھیں لیکن آپ صلی اللہ بڑے تحمل سے اصلاح فرمایا کرتے تھے سمجھایا کرتے تھے کہ کونسی بات کس موقع پر کہنی ہے، کس طرح عمل کرنا ہے۔حضرت معاویہ بن حکم السلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب میں رسول کریم علی اللہ کے پاس آیا تو میں نے حضور علی یا اللہ سے اسلام کے بارے میں باتیں سیکھیں۔به وسلم ان میں سے ایک بات جو مجھے بتائی گئی وہ یہ تھی کہ جب تجھے چھینک آئے تو توالْحَمْدُ لِلہ کہہ۔اور جب چھینک مارنے والا الْحَمْدُ لِله کہے تو ، تو يَرْحَمُكَ الله کہے۔راوی کہتے ہیں کہ میں نماز میں رسول کریم صلی اللہ کے ساتھ کھڑا تھا کہ اسی اثناء میں ایک شخص نے چھینک ماری اور الْحَمْدُ لِلہ کہا تو میں نے جوا با بلند آواز سے يَرْحَمُكَ الله کہ دیا۔اس پر لوگ مجھے گھورنے لگے جو کہ مجھے بہت برا محسوس ہوا۔میں نے کہا تم مجھے کیوں تیز نظروں سے گھورتے ہو۔اس پر لوگوں نے سُبْحَانَ اللہ کہا۔جب رسول کریم عیالہ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ بولنے والا کون تھا۔اشارہ کر کے بتایا گیا کہ یہ بدوی باتیں کر رہا تھا۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ نماز، قرآن مجید کی تلاوت اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے ہوتی ہے۔پس جب تو نماز پڑھ رہا ہو تو تو یہی کام کیا کر۔راوی کہتے ہیں (جو بیان کر رہے ہیں اور جس پرلوگوں نے گھورا تھا) کہ میں نے رسول کریم عیب یا اللہ سے زیادہ نرمی سے بات کرنے والا معلم اپنی عليه