خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 503
خطبات مسرور جلد سوم زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔503 خطبہ جمعہ 19 اگست 2005 ( ابوداؤد - كتاب الصلوة - باب تشميت العاطس في الصلوة) دیکھیں نئے آدمی کو کس خوبصورتی سے نماز کے آداب بھی سکھا دیئے ، تقدس بھی بتا دیا اور اس خوبصورت انداز کا اس بدوی پر بھی ایسا اثر ہوا جو ساری عمر رہا۔یہی لوگ تھے جو اسلام سے پہلے ان چیزوں یا ان باتوں کے سکھانے والوں سے بڑی سختی سے پیش آیا کرتے تھے یا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ایک اعلیٰ خلق سچ بولنا اور سچ کا قیام ہے اور جھوٹ سے نفرت ہے۔اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے قیام کے لئے بھی یہ انتہائی ضروری چیز ہے۔اللہ تعالیٰ نے شرک اور جھوٹ سے اجتناب کا ایک ہی جگہ ذکر فرمایا ہے۔اس لئے آپ بچوں کو بھی پہلا سبق یہی دیا کرتے تھے کہ سچ بولو۔اور ماؤں اور باپوں کو بھی یہ کہا کرتے تھے کہ ان کو سچ سکھاؤ۔اس طرح پر ہر نئے مسلمان ہونے والے کے لئے بھی یہی سبق ہوتا تھا کہ سچائی کو اختیار کرو، ہمیشہ سچ بولو۔اب سچ کو قائم کرنے کے لئے اور بچوں میں اس کو راسخ کرنے کے لئے کتنا اس کا خیال رکھا کرتے تھے، اس بات کا ایک روایت سے پتہ لگتا ہے۔عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم علی یا اللہ ایک دفعہ ہمارے گھر تشریف لائے۔میں اس وقت کم سن بچہ تھا۔میں کھیلنے کے لئے جانے لگا تو میری امی نے کہا عبداللہ ادھر آؤ میں تمہیں چیز دوں گی۔رسول اللہ صلی اللہ نے فرمایا کہ تم اسے کچھ دینا چاہتی ہو؟ میری ماں نے جواب دیا کہ ہاں میں کھجور دوں گی۔آپ صلی اللہ نے فرمایا اگر واقعی تمہارا یہ ارادہ نہ ہوتا اور صرف بچے کو بلانے کے لئے ایسا کہا ہوتا تو تمہیں جھوٹ بولنے کا گناہ ہوتا۔(مسند احمد بن حنبل حديث عبدالله بن عامر جلد 3 صفحه 447 مطبوعه بيروت) اب دیکھیں اس چھوٹی عمر میں آنحضرت عبید اللہ کی یہ نصیحت بچے کے ذہن پر نقش ہو گئی۔اب جس بچے کی اٹھان ایسے ماحول میں اور ان نصیحتوں کے ساتھ ہوئی ہو وہ کبھی زندگی بھر جھوٹ بول سکتا ہے؟ اور ایسے ہی تربیت یافتہ بچے ہوتے ہیں جو پھر دنیا کو سچائی دکھانے والے بن