خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 33
خطبات مسرور جلد سوم 33 خطبہ جمعہ 14 جنوری 2005ء دیکھ کر زیادہ سے زیادہ لوگ اس پاکیزہ جماعت میں شامل ہوں اور اللہ تعالیٰ کے عبادت گزار بندے بن جائیں۔اور اسی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے توجہ دلائی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : ” اس وقت ہماری جماعت کو مساجد کی بڑی ضرورت ہے۔یہ خانہ خدا ہوتا ہے جس گاؤں یا شہر میں ہماری جماعت کی مسجد قائم ہوگئی تو سمجھو کہ جماعت کی ترقی کی بنیاد پڑ گئی۔اگر کوئی ایسا گاؤں ہو یا شہر جہاں مسلمان کم ہوں یا نہ ہوں اور وہاں اسلام کی ترقی کرنی ہو تو ایک مسجد بنادینی چاہئے۔پھر خدا خود مسلمانوں کو کھینچ لاوے گا۔لیکن شرط یہ ہے کہ قیام مسجد میں نیت بہ اخلاص ہو۔محض اللہ اسے کیا جاوے نفسانی اغراض یا کسی شر کو ہر گز دخل نہ ہو تب خدا برکت دے گا“۔(ملفوظات جلد چہارم صفحه 93 جدید ایڈیشن - البدر 24 اگست 1904ء) پس اس ارشاد کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے ہر جگہ مساجد بنانی ہیں اور جماعت احمدیہ اسی لئے مساجد بناتی ہے۔میرے دل میں بڑی شدت سے یہ خیال پیدا ہوا کہ پانچ سو سال بعد اس ملک میں مذہبی آزادی ملتے ہی جماعت احمدیہ نے مسجد بنائی۔اور اب اس کو بنے بھی تقریباً 25 سال ہونے لگے ہیں اب وقت ہے کہ سپین میں مسیح محمدی کے ماننے والوں کی مساجد کے روشن مینار اور جگہوں پر بھی نظر آئیں۔جماعت اب مختلف شہروں میں قائم ہے۔جب یہ مسجد بنائی گئی تو اس وقت یہاں شاید چند لوگ تھے۔اب کم از کم سینکڑوں میں تو ہیں۔پاکستانیوں کے علاوہ بھی ہیں۔جماعت کے وسائل کے مطابق عبادت کرنے والوں کے لئے نہ کہ نام ونمود کے لئے اللہ کے اور گھر بھی بنائے جائیں۔تو اس کے لئے میرا انتخاب جو میں نے سوچا اور جائزہ لیا تو بلنسیہ (Valencia) کے شہر کی طرف توجہ ہوئی۔یہاں بھی ایک چھوٹی سی جماعت ہے اور یہ شہر ملک کے مشرق میں واقع ہے۔آپ کو تو پتہ ہے دوسروں کو بتانے کے لئے بتا رہا ہوں۔اور آبادی کے لحاظ سے بھی تیسرا بڑا شہر ہے اور یہاں بھی ابتدا میں ہی 711ء میں مسلمان آ گئے تھے مسلمانوں کی تاریخ بھی اس علاقے میں ملتی ہے، ابھی تک ملتی ہے۔زرعی لحاظ سے بھی اس جگہ کو