خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 34 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 34

خطبات مسرور جلد سوم 34 خطبہ جمعہ 14 جنوری 2005ء مسلمانوں نے ڈیویلپ (Develop) کیا ہے۔بہت سے احمدی جو وہاں کام کرتے ہیں۔مالٹوں کے باغات میں بہت سے لوگ کام کرتے ہیں۔یہ مالٹوں کے باغات کو رواج دینا بھی مسلمانوں کے زمانے سے ہی چلا آ رہا ہے۔تو بہر حال ہم نے اب یہاں مسجد بنانی ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی توفیق سے جلد بنانی ہے۔سپین میں جماعت کی تعداد تو چند سو ہے اور یہ بھی مجھے پتہ ہے کہ آپ لوگوں کے وسائل اتنے زیادہ نہیں ہیں۔زمینیں بھی کافی مہنگی ہیں۔امیر صاحب کو جب میں نے کہا وہ ایک دم بڑے پریشان ہو گئے تھے کہ کس طرح بنائیں گے۔تو میں نے انہیں کہا تھا کہ آپ چھوٹا سا ، دوتین ہزار مربع میٹر کا پلاٹ تلاش کریں اور اپنی کوشش کریں۔اور جماعت سپین زیادہ سے زیادہ کتنا حصہ ڈال سکتی ہے یہ بتائیں۔کون احمدی ہے جو نہیں چاہے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش کو پورا کرنے والا نہ بنے ؟۔کون ہے جو نہیں چاہے گا کہ جنت میں اپنا گھر بنائے۔پس آپ لوگ اپنی کوشش کریں باقی اللہ تعالیٰ خود اپنے فضل سے انتظام کر دے گا۔یہی ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا جماعت سے سلوک رہا ہے۔اور انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ بھی رہے گا اور وہ خود انتظام فرما دے گا۔بہر حال بعد میں امیر صاحب نے لکھا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی تھی یا غلط نہی ہو گئی تھی کہ میں نے مایوسی کا اظہار کر دیا، بات سمجھا نہیں شاید۔تو ہم انشاء اللہ تعالیٰ مسجد بنائیں گے اور دوسرے شہروں میں بھی بنائیں گے۔تو بہر حال عزم، ہمت اور حوصلہ ہونا چاہئے اور پھر ساتھ ہی سب سے ضروری چیز اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتے ہوئے اس سے دعائیں مانگتے ہوئے ، اس سے مدد چاہتے ہوئے کام شروع کیا جائے تو انشاء اللہ تعالیٰ برکت پڑتی ہے اور پڑے گی۔تو بہر حال مجھے پتہ ہے کہ فوری طور پر شاید پین کی جماعت کی حالت ایسی نہیں کہ انتظام کر سکے کہ سال دو سال کے اندر مسجد مکمل ہو۔لیکن ہم نے انشاء اللہ تعالیٰ ، اللہ تعالیٰ کا نام لے کر فوری طور پر اس کام کو شروع کرنا ہے اس لئے زمین کی تلاش فوری شروع ہو جانی چاہئے چاہے پین جماعت کو کچھ گرانٹ اور قرض دے کر ہی کچھ کام شروع کروایا جائے اور بعد میں ادا ئیگی ہو جائے۔تو یہ کام بہر حال انشاء اللہ شروع ہو گا۔اور جماعت کے جو مرکزی ادارے ہیں یا دوسرے صاحب حیثیت افراد ہیں اگر خوشی سے کوئی