خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 32 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 32

خطبات مسرور جلد سوم 32 خطبہ جمعہ 14 جنوری 2005ء اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ ساتھ بندوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف بھی توجہ ہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنا تو یہی ہے کہ جو بھی اس نے حکم دیئے ہیں چاہے وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق ہیں یا بندوں کے حقوق ہیں، سب کو ادا کرنے کی طرف توجہ ہو۔مسجدیں تو اس لئے بنائی جاتی ہیں کہ ان میں خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے۔پس مسجد میں عبادت کی غرض سے آنے والوں کے ساتھ ساتھ مسجدوں سے وہ لوگ بھی فیض پاتے ہیں وہ بھی ثواب کے مستحق ٹھہرتے ہیں جو اس کے بنانے میں حصہ لیتے ہیں۔وہ لوگ بھی اپنے لئے جنت میں باغ لگاتے ہیں جو خالصتا اللہ تعالیٰ کے لئے اس کے گھر کی تعمیر میں حصہ لیتے ہیں، نہ کہ نام و نمود کے لئے۔پس اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے مسجد میں بنانا بھی یقیناً ایک نیک کام ہے اور اللہ کے فضلوں کو سمیٹنے والا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں مسجد نبوی کی تعمیر نو اور توسیع کا ارادہ فرمایا تو کچھ لوگوں نے اسے ناپسند کیا۔وہ یہ چاہتے تھے کہ اس مسجد کو اس کی اصل حالت میں ہی رہنے دیا جائے۔یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے مسجد بنائی اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ویسا ہی گھر بنائے گا۔( مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلاة باب فضل بناء المساجد والحث عليها) لیکن جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے مسجد میں بنائی جائیں۔اور احمدی جب مسجدیں بناتے ہیں تو یقیناً اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے بناتے ہیں۔اس لئے بناتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ عبادت گزار اُن سے فائدہ اٹھا سکیں۔اس لئے بناتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس میں آکر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کر سکیں۔ہماری کوششیں تو عاجزانہ اور دعاؤں کے ساتھ ہوتی ہیں کوئی دکھاوا ان میں نہیں ہوتا۔ہم تو اس مسیح محمدی کی جماعت میں شامل ہیں جس کے سپر د اللہ تعالیٰ نے مساجد کی آبادی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا کام کیا ہوا ہے۔ہم تو مساجد اس لئے بناتے ہیں کہ اُن کو