خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 96 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 96

خطبات مسرور جلد سوم 96 خطبہ جمعہ 18/ فروری 2005ء سے نہیں گزرے مگر رک کر پناہ مانگی۔پھر قیام کے برابر آپ نے رکوع فرمایا۔یعنی جتنی دیر کھڑے تھے، تلاوت کی اتنی ہی دیر رکوع کیا ، جس میں تسبیح و تحمید کرتے رہے۔پھر قیام کے برابر سجدہ کیا۔سجدے میں بھی یہی تسبیح دعا پڑھتے رہے۔پھر کھڑے ہو کر آل عمران پڑھی۔پھر اس کے بعد ہر رکعت میں ایک ایک سورۃ پڑھتے رہے۔(ابو داؤد - كتاب الصلوة ـ باب ما يقول الرجل في ركوعه و سجوده حدیث نمبر 868) تو یہ رک رک کر سمجھ کر ، رحمت اور عذاب کے موقعوں پر دعا کر کے، پناہ مانگ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس طرح غور کرنا اور پناہ مانگنا، یہ رکنا یہ غور بھی کوئی معمولی نہیں ہوتا تھا۔یہ دعائیں بھی اور یہ غور بھی بہت اعلیٰ معیار کا تھا جس تک انسان کی شاید سوچ بھی پہنچنی بہت مشکل ہو۔تبھی تو حضرت عائشہ نے فرمایا ہے کہ ان کی نمازوں کے حسن کے بارے میں مجھ سے نہ پوچھو وہ بیان ہی نہیں کی جاسکتیں۔پھر حضرت حذیفہ بن یمان فرماتے ہیں۔ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز دان صحابی تھے۔ایک رات رسول اللہ کے ساتھ نماز ادا کی جب نماز شروع کی تو آپ نے کہا اللهُ أَكْبَرُ ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْحَبْرُوْتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظْمَةِ۔يعنى الله بڑا ہے جو اقتدار اور سطوت کبریائی اور عظمت والا ہے۔پھر آپ نے سورۃ بقرہ مکمل پڑھی۔پھر رکوع فرمایا جو قیام کے برابر تھا۔پھر رکوع کے برابر کھڑے ہوئے۔پھر سجدہ کیا جو کہ قیام کے برابر تھا۔پھر دونوں سجدوں کے درمیان رَبِّ اغْفِرْلِی، رَبِّ اغْفِرْ لِی اے میرے رب مجھے بخش دے، اے میرے رب مجھے بخش دے کہتے ہوئے اتنی دیر بیٹھے جتنی دیر سجدہ کیا تھا۔پھر دوسری رکعتوں میں آپ نے آل عمران، نساء، مائدہ، انعام وغیرہ طویل سورتیں پڑھیں۔(ابو داؤد۔كتاب الصلوة باب ما يقول الرجل فى ركوعه و سجوده حدیث نمبر (869) تو دیکھیں یہ تھے آپ کی عبادتوں کے معیار۔اس لئے روایتوں میں آتا ہے کہ بعض دفعہ کھڑے کھڑے آپ کے پاؤں سوج جایا کرتے تھے۔چنانچہ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اتنی لمبی نماز ادا فرمایا کرتے تھے کہ آپ کے پاؤں متورم ہو کر پھٹ جاتے