خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 97 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 97

خطبات مسرور جلد سوم 97 خطبہ جمعہ 18 / فروری 2005ء تھے۔ایک دفعہ میں نے آپ سے عرض کی اے اللہ کے رسول ! آپ کیوں اتنی تکلیف اٹھاتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام قصور معاف فرما دیئے ہیں۔تو آپ نے فرمایا افلا أحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا۔کیا میں یہ نہ چاہوں کہ میں اللہ کا شکر گزار بندہ بنوں۔(بخارى كتاب التفسير - سورة الفتح - باب قوله ليغفر لك الله ماتقدم من ذنبك۔۔۔۔۔۔۔۔پھر ام المومنین حضرت سودہ کی ایک روایت ہے۔نہایت سادہ مزاج اور نیک خاتون تھیں۔ایک رات انہوں نے بھی اپنی باری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز تہجد ادا کرنے کا ارادہ کیا۔اور حضور کے ساتھ جا کر نماز میں شامل ہوئیں۔پتہ نہیں کتنی دیر نماز ساتھ وہ پڑھ سکیں لیکن بہر حال اپنی سادگی میں دن کے وقت انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس لمبی نماز پہ جو تبصرہ کیا اس سے حضور بہت محظوظ ہوئے۔کہنے لگیں یا رسول اللہ ! رات آپ نے اتنا لمبا رکوع کروایا کہ مجھے تو لگتا تھا جیسے جھکے جھکے کہیں میری نکسیر نہ پھوٹ پڑے۔(الاصابة في تمييز الصحابة حرف السين - القسم الاول – سودہ بنت زمعة) پھر ایک روایت میں آتا ہے عطاء روایت کرتے ہیں کہ: ایک مرتبہ میں ابن عمرؓ اور عبید اللہ بن عمرؓ کے ساتھ حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کی کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی عجیب ترین بات بتائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دیکھی ہو۔اس پر حضرت عائشہ ” آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی یاد سے بیتاب ہو کر رو پڑیں اور کہنے لگیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ادا ہی نرالی ہوتی تھی۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات میرے پاس تشریف لائے۔میرے ساتھ میرے بستر میں لیٹے پھر آپ نے فرمایا اے عائشہ! کیا آج کی رات تو مجھے اجازت دیتی ہے کہ میں اپنے رب کی عبادت کرلوں۔میں نے کہا خدا کی قسم ! مجھے تو آپ کی خواہش کا احترام ہے اور آپ کا قرب پسند ہے۔میری طرف سے آپ کو اجازت ہے۔تب آپ اٹھے اور مشکیزہ سے وضو کیا۔نماز کے لئے کھڑے ہو گئے اور نماز میں اس قدر روئے کہ آپ کے آنسو آپ کے سینہ پر گرنے لگے۔نماز کے بعد آپ دائیں طرف ٹیک لگا کر اس طرح بیٹھ گئے کہ