خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 95
خطبات مسرور جلد سوم 95 خطبہ جمعہ 18 فروری 2005ء ڈوبا ہوا یہ نظارے دکھا سکتا ہے؟ تھوڑے ہی عرصہ میں سب کچھ پورا ہوتا ہوا نظر آیا۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنی دلی خواہش کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : اللہ نے ہر نبی کی ایک خواہش رکھی ہوتی ہے اور میری دلی خواہش رات کی عبادت ہے۔(المعجم الكبير للطبرانى باب سعيد بن جبير عن ابن عباس) پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اس رات کی عبادت میں بھی وہ اعلیٰ معیار قائم کئے جن کی مثال نہیں مل سکتی۔اس بارے حضرت عائشہ کی گواہی ہے۔رسول اللہ ﷺ کی نماز یعنی تہجد کی نماز کی کیفیت جب آپ سے پوچھی گئی تو فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان یا اس کے علاوہ دنوں میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھتے تھے مگر وہ اتنی لمبی اور پیاری اور حسین نماز ہوا کرتی تھی کہ اس نماز کی لمبائی اور حسن و خوبی کے متعلق مت پوچھو۔“ (بخاری کتاب التهجد باب قيام النبي ﷺ بالليل في رمضان وغيره – حديث نمبر 1147) سکوں۔یعنی میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے میں آپ کی اس خوبصورت عبادت کا نقشہ کھینچ ایک روایت میں آتا ہے مطرف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اس وقت شدت گریہ وزاری کے باعث آپ کے سینے سے ایسی آواز آ رہی تھی جیسے چکی کے چلنے کی آواز ہوتی ہے۔(سنن ابی داؤد كتاب الصلوة باب البكاء في الصلوة) ایک دوسری روایت میں یہ آتا ہے کہ : آپ کے سینے سے ایسی آواز اٹھ رہی تھی جیسے ہنڈیا کے ابلنے کی آواز ہوتی ہے۔(سنن نسائى - كتاب السهو ـ باب البكاء في الصلوة حديث نمبر (1213) حضرت عوف بن مالك اشجعی کہتے ہیں کہ : ایک رات مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات کو عبادت کی توفیق ملی۔آپ نے پہلے سورۃ بقرہ پڑھی۔آپ کسی رحمت کی آیت سے نہیں گزرتے تھے مگر وہاں رک کر دعا کرتے اور آپ کسی عذاب کی آیت