خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 871
$2004 871 مسرور آپ فرماتے ہیں کہ : ” بظاہر یہ تعلیم کہ خدا تعالیٰ نے اپنے بندہ کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے خود غرضانہ معلوم دیتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے گو یا اللہ تعالیٰ بندے کی عبادت کا محتاج ہے۔لیکن اگر قرآن پر غور کیا جائے تو حقیقت بالکل مختلف نظر آتی ہے۔کیونکہ قرآن کریم بوضاحت بیان فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی عبادت کا محتاج نہیں ہے۔چنانچہ سورہ عنکبوت رکوع اول میں ہے کہ ﴿وَمَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعَلَمِينَ ﴾ (العنكبوت : 7) یعنی جو شخص کسی قسم کی جدو جہد روحانی ترقیات کے لئے کرتا ہے وہ خود اپنے نفس کے فائدے کے لئے ایسا کرتا ہے۔ورنہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات اور ان کے ہر قسم کے افعال سے غنی ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ تو غنی ہے اس کو کسی چیز کی حاجت نہیں ہے کہ بندہ کیا کرتا ہے، کیا نہیں کرتا۔آگے اس بارے میں ایک تفصیلی حدیث بھی میں بیان کروں گا۔جو کچھ کرتا ہے انسان اپنے فائدے کے لئے کرتا ہے۔اسی طرح سورۃ حجرات میں فرماتا ہے کہ قُلْ لا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلَامَكُمْ بَلِ اللَّهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدكُمْ (الحجرات: 18) یعنی مذہب اسلام کو قبول کر کے رسول کریم ﷺ پر احسان نہیں نہ خدا تعالیٰ پر ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے وہ طریق بتایا جولوگوں کی ترقی اور کامیابی کا موجب ہے۔پس عبادت قرآن کریم کے رو سے خود بندے کے فائدے کے لئے ہے اور اس کی یہ وجہ ہے کہ عبادت چند ظاہری حرکات کا نام نہیں ہے بلکہ ان تمام ظاہری اور باطنی کوششوں کا نام ہے جو انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنادیتی ہے۔کیونکہ عبد کے معنی اصل میں کسی نقش کے قبول کرنے اور پورے طور پر اس کے منشاء کے ماتحت چلنے کے ہوتے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ جو شخص کامل طور پر اللہ تعالیٰ کی منشا کے ماتحت چلے گا الہی صفات کو اپنے اندر پیدا کر لے گا اور ترقی کے اعلیٰ مدارج کو حاصل کر لے گا۔تو یہ امر خود اس کے لئے نفع رساں ہوگا نہ کہ اللہ تعالیٰ کے لئے۔بائیبل میں جو یہ لکھا ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی شکل پر پیدا کیا ( پیدائـــــش بــاب 1 آيــت 27)تو در حقیقت اس میں بھی اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کو اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ